یمن میں انسانیت سوز واقعہ: 11 سالہ لڑکی پر تشدد، لونڈی کے طور پر فروخت کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایک انسانیت سوز واقعے نے عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا جس میں ایک 11 سالہ لڑکی کو اس کے والد اور اہل خانہ نے طویل عرصے تک گھریلو تشدد اور وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا اور پھر ایک غیر معمولی نظیر میں 200,000 یمنی ریال ( 140 ڈالر) میں ایک لونڈی کے طور پر بیچ دیا۔

تفصیلات کے مطابق، ملک کے مغرب میں واقع ریمہ گورنری سے 11 سالہ لڑکی، علا عبدہ ثابت کو اس کے والد اور سوتیلی ماں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے علاقے کے ایک معمر شخص کو 200,000 ریال میں لونڈی کے طور پر فروخت کر دیا۔

یمنی بچی
یمنی بچی

جعلی نکاح

خریدنے کے بعد معمر شخص اور اس کے بچے بھی لڑکی پر تشدد کرتے رہے۔

معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد لڑکی کے والد اور چچا کو مزید 10 لاکھ ریال ادا کیے گئے، اور جعلسازی سے لڑکی کی عمر 19 سال کر کے نکاح کی دستاویز بنائی گئی۔

جعلی دستاویز کا عکس

آخری حربے کے طور پر والد، چچا اور سوتیلی ماں سمیت دیگر رشتہ داروں نے بوڑھے کے ساتھ مل کر لڑکی کو قتل کا منصوبہ بنایا۔مگر بوڑھے شخص کی بیوی نے ترس کھاتے ہوئے لڑکی کو فرار کروا دیا جسے گاؤں کے ایک گھر میں پناہ دی گئی۔

واقعے کی اطلاع حوثی سکیورٹی حکام کو دی گئی لیکن تاحال کوئی اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بچی کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی ہےاور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بچی کی میڈیکل رپورٹ بھی شائع کی گئی، جس سے جسمانی تشدد ثابت ہوگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں