رقاصوں کا امریکی پاپ اسٹار لیزو کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ

مدعا علیہان نے جنسی، مذہبی اور نسلی ہراسانی، معذوری کے ساتھ امتیازی سلوک، (جنسی) حملہ اور جھوٹی قید کا الزام لگایا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فنکارہ لیزو پر ان کے تین سابقہ رقاصوں نے مقدمہ دائر کیا ہے جن کا الزام ہے کہ باڈی-پازیٹو پاپ گلوکارہ نے کام کے لیے ناسازگار ماحول پیدا کر دیا تھا۔ منگل کو اے ایف پی نے عدالتی فائلنگ دیکھ کر مقدمے کے بارے میں معلوم کیا۔

لیزو کے خلاف مقدمہ لاس اینجلس میں دائرکیا گیا ہے جن کا خود سے محبت کا پیغام پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔ ساتھ ہی دیگر مدعا علیہان پر بھی کیلی فورنیا کے لیبر قانون کی مختلف خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

ان کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے ایک بیان میں کہا۔ "مدعی اریانا ڈیوس، کرسٹل ولیمز اور نوئل روڈریگس نے جنسی، مذہبی اور نسلی ہراسانی، معذوری کے ساتھ امتیازی سلوک، (جنسی) حملہ اور جھوٹی قید کا الزام لگایا ہے۔"

اس بیان میں مزید کہا گیا۔ "ڈیوس اور ولیمز کو آخرِ کار برطرف کر دیا گیا جبکہ روڈریگ نے پریشان کن رویئے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔"

عائد کردہ الزامات میں سے ایک کا مرکزی نکتہ ایمسٹرڈیم کا ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ شو ہے جس کے بارے میں رقاصوں کو ایسا لگا کہ شرکت کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ مقدمے میں الزام ہے کہ لیزو نے شو میں اپنے رقاصوں پر عریاں اداکاروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ لیزو کی ڈانس لیڈر، شرلین کوئگلی نے کئی مرتبہ جنسی تبصرے کیے اور احتجاج سے قطع نظر اپنے عیسائی عقائد کی طرف مائل کیا، بالخصوص وہ عقائد جو شادی سے پہلے جنسی تعلقات کی مخالفت کرتے ہیں۔"

رقاصوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیزو کے عالمی دورے کے مراحل کے درمیان معاوضے پر ایک طویل تنازعہ ہوا تھا۔

مقدمہ میں الزام لگایا گیا ہے کہ لیزو کی پروڈکشن کمپنی بگ گرل بگ ٹورنگ انکارپوریشن (بی جی بی ٹی) کے سفید فام مینیجرز جنہیں شکایت میں نامزد بھی کیا گیا تھا، "اکثر ڈانس ٹیم کے سیاہ فام ارکان پر سست، غیر پیشہ ورانہ اور برے رویے رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔"

بیان میں نقل کی گئی شکایت کے مطابق "یہ الفاظ نہ صرف بطورِ استعارہ سیاہ فام خواتین کو اپنے حق میں وکالت کرنے کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے الزامات ان رقاصوں پر نہیں لگائے گئے جو سیاہ فام نہیں ہیں۔"

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ "صرف ڈانس کاسٹ – جو موٹے جسم والی سیاہ فام خواتین پر مشتمل ہے - سے ہی اس انداز میں بات کی گئی تھی جس سے مدعی کو نسلی اور جسمانی عناد کا تاثر ملتا تھا۔"

لیزو کے نمائندوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں