زیادہ تر عالمی کمپنیاں علاقائی ہیڈ کواٹرکے لیے ریاض اور جدہ کا رخ کررہی ہیں:نائٹ فرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نائٹ فرینک کی سینیر محقق اور دانشور رنا میرہ نے ’العربیہ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جدہ میں دفاتر کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹرز سعودی عرب میں قائم کرنے کا رجحان رکھتی ہیں اور اس کے لیے وہ ریاض اور جدہ جیسے شہروں کا انتخاب کررہی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دفاتر کے لیے درخواستیں اعلیٰ معیار کی دفاتر کی جگہوں کے لیے دی جاتی ہیں۔ ریاض میں دفاترکے لیے جگہوں کے حصول کے تناسب میں 98 فیصد اضافہ ہوا جب کہ دفاترکے لیے پیش کردہ جگہوں کی قلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدہ شہر کے حوالے سے اس میں سپلائی کی کمی اور اعلیٰ معیار کے دفاتر کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے جگہوں کے حصول کی شرح میں 95 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ سے کرائے کی شرح میں سالانہ 15 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں کی جانب سے دفاتر کی مانگ میں اضافے کے ساتھ سپلائی کی کمی کے باوجود بہت سی کمپنیوں نے اپنے ہیڈ کوارٹر بنانے کا رجحان برقرار رکھا ہے۔

میرہ کا کہنا تھا کہ "ریاض شہر میں خوردہ جگہوں کے کرایوں میں سالانہ بنیادوں پر 2 فی صد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ جگہوں کے حصول کی شرح میں 3 فی صد اضافہ ہوا.جدہ میں عمارتوں کے کرایوں میں 5 فی صد جب کہ مشرقی علاقے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک شاپنگ کی طرف رجحان کے ساتھ موجودہ مرحلے میں صارفین کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی ہے، لیکن تجارتی مراکز کی مانگ اب بھی برقرار ہے۔

ہوٹل کے شعبے کے حوالے سے میرہ نے کہا کہ سعودی عرب میں ہوٹلوں نے اس سال کی پہلی ششماہی میں مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاض میں سال بھر منعقد ہونے والی تقریبات نے زائرین کی تعداد میں اضافہ اور ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنا۔ ہوٹل کے کمرے کے لیے یومیہ اوسط شرح 13 فی صد اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں