کینیڈا میں ہر سگریٹ پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی وارننگ چھاپی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیڈا میں بیچے جانے والے سگریٹوں میں سے اب ہر ایک پر تمباکو نوشی کے خلاف تنبیہ چھپی ہوئی ہو گی۔ یہ اس مضر صحت عادت کے خلاف دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا اولین اقدام ہے۔ اس سلسلے میں نئے ضوابط یکم اگست سے لاگو ہو گئے ہیں۔

کینیڈا میں اٹاوہ سے بدھ دو اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق شمالی امریکہ کے اس ملک میں لازمی ہو گیا ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف وارننگ اب ڈرا دینے والی تصاویر اور تنبیہ کرنے والے متن کے ساتھ صرف سگریٹ کے پیکٹوں کے باہر ہی چھپی ہوئی نہیں ہو گی، بلکہ کسی بھی پیکٹ کے اندر ہر سگریٹ پر بھی ایسے تنبیہی پیغامات چھپے ہوئے ہوں گے۔

اس حوالے سے کینیڈا میں نئے ضوابط کا اعلان اسی سال مئی میں کیا گیا تھا، جو اب منگل یکم اگست سے نافذالعمل بھی ہو گئے ہیں۔ ہر سگریٹ پر چھاپے گئے اور وارننگ دینے والے یہ پیغامات اس نوعیت کے ہوں گے: ''سگریٹ افزائش نسل کی اہلیت ختم کر دیتے ہیں،‘‘ اور ''ہر کش میں زہر ہے۔‘‘

توقع ہے کہ کنگ سائز سگریٹوں کے کسی بھی پیکٹ میں ہر سگریٹ پر ایسے انفرادی پیغامات شائع کرنے کا سلسلہ اور ایسے سگریٹوں کی ملکی مارکیٹ میں آمد اسی سال شروع ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس کینیڈین سٹوروں سے پیکٹوں میں خریدے جانے والے ریگولر سائز کے سگریٹوں پر ایسی تنبیہات شائع کرنے کا سلسلہ 2025ء کے اوائل میں شروع ہو جائے گا۔

نشے کی عادت کے خلاف کینیڈا کی سابق خاتون وزیر کیرولین بینیٹ کے مطابق، ''سگریٹ کے پیکٹوں پر شائع کیے جانے والے پیغامات اور زیادہ ڈراؤنی تصاویر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اب ہر سگریٹ پر ایسے پیغامات چھاپے جانے سے کینیڈین صارفین کو زیادہ حقیقی اور چونکا دینے والے انداز میں یہ باور کرایا جا سکے گا کہ تمباکو نوشی کے صحت کے لیے نقصانات کتنے تباہ کن ہوتے ہیں۔‘‘

ان نئے ضوابط کی منظوری اور اب ان کے مؤثر ہو جانے سے قبل کینیڈا نے 2000ء میں بھی ایسا ہی ایک قدم اٹھایا تھا، جو تمباکو نوشی کے خلاف کیا جانے والا عالمی سطح پر اپنی طرز کا پہلا اقدام تھا۔ یہ فیصلہ سگریٹ کے پیکٹوں پر تمباکو نوشی کے عادی افراد کی بیماری کی صورت میں لی گئی ایسی خوفناک طبی تصاویر کی اشاعت سے متعلق تھا، جو اس سے پہلے دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے نہیں چھاپی جاتی تھیں۔

تب یہ تصاویر سگریٹ نوش افراد کو لاحق دل اور پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کی ہوتی تھی، جن کے اشاعت کا مقصد یہ تھا کہ عام شہریوں میں تمباکو نوشی کے صحت پر انتہائی منفی اثرات کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکے۔

کینیڈا میں سماجی سطح پر تمباکو نوشی کا رجحان گزشتہ دو دہائیوں سے بتدریج کم ہو رہا ہے۔ تاہم حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اسموکنگ آج بھی ہر سال کینیڈا کے تقریباً 48 ہزار شہریوں کی موت کی براہ راست یا بالواسطہ طور پر وجہ بنتی ہے۔

اس کے علاوہ کینیڈا میں صحت کے شعبے پر اٹھنے والے اخراجات میں سے تقریباﹰ نصف ان مریضوں کی وجہ سے ہوتے ہیں، جو تمباکو نوشی یا نشے کی دیگر صورتوں کے عادی ہوتے ہیں۔

کینیڈا کی حکومت ملک میں تمباکو نوشی کرنے والے شہریوں کی تعداد میں مزید کمی کرنا چاہتی ہے۔ ہدف یہ ہے کہ 2035ء تک یہ تعداد مزید کم کر کے دو ملین یا ملک کی مجموعی آبادی کے صرف پانچ فیصد تک لائی جائے۔ اس وقت کینیڈین شہریوں میں سے تقریباً13 فیصد تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں