اتاترک سیریز سٹریم نہ کرنے پر ترک حکمران جماعت کی ڈزنی پلس پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کی حکمران جماعت نے والٹ ڈزنی کمپنی کے ڈزنی پلیس کی جانب سے جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے بارے میں ایک دستاویزی فلم سٹریمنگ سروس پر نشر نہ کرنے کے مبینہ فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترکیہ کے نشریاتی ادارے نے کہا کہ وہ ترک اور آرمینیائی میڈیا کی رپورٹس کو دیکھ رہا ہے۔

آرمینیائی نیشنل کمیٹی آف امریکہ (ANCA) نے جون میں ڈزنی پلس سے شو کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شو ایک ترک آمر اور نسل کشی کے قاتل کی تعریف کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ ڈزنی پلس ترکیہ نے اعلان کیا تھا کہ اتاترک سیریز "بہت جلد" آن ایئر ہوگی۔

ڈزنی پلیس ترکیہ نے ’’ ایکس‘‘ یا ’’ ٹویٹر‘‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اصل سیریز اتاترک بہت جلد ترکیہ کی 100 ویں سالگرہ پرنشر کی جائے گی۔ اتاترک کو ترکیہ میں بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے اور ترکیہ کے ٹیلی ویژن واچ ڈاگ RTUK کے چیئرمین ابوبکر ساہن نے منگل کی شب میسجنگ پلیٹ فارم ’’X‘‘ پر ایک بیان میں اتاترک کو ترکیہ کی سب سے اہم سماجی قدر کے طور پر بیان کیا اور اس حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمران اے کے پارٹی کے ترجمان عمر سالک نے ’’X‘‘ پر ایک پوسٹ میں سیریز نہ چلانے کے مبینہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ "شرمناک" اور " توہین آمیز" ہے۔

متعدد ترک اور آرمینیائی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ڈزنی نے سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آرمینیائی آزاد میڈیا آؤٹ لیٹ ’’301 ‘‘ کے مطابق بھی یہ فیصلہ ANCA کی لابنگ سرگرمیوں سے متاثر ہوکر کیا گیا۔

والٹ ڈزنی ترکی نے بدھ کو بتایا کہ اس نے "وسیع تر سامعین تک پہنچنے کے لیے مواد کی تقسیم کی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ہے۔ اس دستاویزی فلم کا ایک خصوصی ورژن ترکی میں ’’ فاکس‘‘ ٹی وی چینل پر نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر اسے تھیٹروں میں دو الگ الگ فلموں کے طور پر دکھایا جائے گا۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اتاترک فلمیں ڈزنی پلیس سٹریمنگ سروس پر نشر کی جائیں گی یا نہیں۔

پروڈیوسر سنیر عیار نے والٹ ڈزنی ترکی کے بیان میں کہا کہ صدی کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اکتوبر سے FOX کے ذریعے اتاترک کو مفت مزید لوگوں تک پہنچائیں گے۔ اس کے بعد ایک تھیٹر میں لوگ بڑی سکرین پر فلم 1 اور فلم 2 دونوں کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

مئی 1915 میں عثمانی کمانڈروں نے مشرقی ترکی سے آرمینیائی باشندوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کی تھی۔ آرمینیا کا کہنا ہے کہ تقریبا 1.5 ملین افراد قتل کئے گئے یا صحرا میں بھوک اور تھکاوٹ سے مر گئے.

نوجوان کرنل مصطفیٰ کمال جو بعد میں اتاترک کے نام سے معروف ہوئے 1915 میں پہلی جنگ عظیم کی گیلی پولی مہم میں کمانڈر تھے۔ 1915 کے قتل عام کو درجنوں ملکوں میں نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں