’’یونان میں تارکین وطن کی کشتی کے حادثے کی 'قابلِ اعتبار' تحقیقات کرائی جائیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو یونان کے قریب تارکین وطن کے ایک بحری جہاز کے حادثے کی "قابلِ اعتماد" تحقیقات کا مطالبہ کیا جس میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ تحقیقات کا مطالبہ یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ اور زندہ بچ جانے والوں کے متضاد بیانات "انتہائی تشویشناک" تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ پرہجوم فشنگ ٹرالر پاکستان، شام اور مصر سے 400 سے 750 افراد کو لے کر لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ڈوب گیا۔ تقریباً 104 افراد زندہ بچ گئے اور حکام نے صرف 82 لاشیں برآمد کیں۔

رائٹرز کے انٹرویوز اور شواہد کے مطابق زندہ بچ جانے والوں نے یونانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے ٹرالر کو کھینچنے کی ناکام کوشش کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

یونانی کوسٹ گارڈ اور حکومت نے کہا ہے کہ کشتی کو کھینچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور ابھی کوسٹ گارڈ تقریباً 70 میٹر دور تھا جب کشتی الٹ گئی تھی۔

یونانی عدالتی حکام نے اس تباہ کن حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ کوسٹ گارڈ کی کارروائیاں بھی زیر تفتیش ہیں۔

ایمنسٹی اور ایچ آر ڈبلیو نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے 4 سے 13 جولائی کے درمیان یونان کے دورے کے دوران 19زندہ بچ جانے والوں اور لاپتا افراد کے چار رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور یونانی کوسٹ گارڈ اور پولیس کے نمائندوں سے انٹرویوز کیے۔

انہوں نے کہا۔ "ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے انٹرویو کیے گئے زندہ بچ جانے والوں نے بار بار اور مستقلاً یہ بتایا کہ جائے وقوعہ پر بھیجے گئے ہیلینک کوسٹ گارڈ کے جہاز نے ایڈریانا سے رسی باندھ کر جہاز کو کھینچنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈولنے لگا اور پھر الٹ گیا۔"

ایچ آر ڈبلیو میں ایسوسی ایٹ یورپ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جوڈتھ سنڈرلینڈ نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کے بیان کردہ واقعات اور حکام کے ورژن کے درمیان تفاوت "انتہائی تشویشناک" ہے۔

دونوں گروپوں نے "جہاز کے ڈوبنے کی مکمل اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جہاز کی تباہی اور بچاؤ کی کوششوں میں تاخیر یا کوتاہیوں دونوں کے لیے کسی بھی ذمہ داری کو واضح کیا جائے جس کی وجہ سے ہولناک جانی نقصان ہوا ہے۔"

یورپی یونین کے انسانی حقوق کے نگراں ادارے نے بھی گذشتہ ماہ کشتی ڈوبنے اور اس بات کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا کہ آیا بلاک کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس نے اپنے بچاؤ کے فرائض پورے کیے تھے (یا نہیں)۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں