ایران کی قبضہ گیری کا توڑ؟امریکی فوج کا تجارتی جہازوں پر مسلح دستوں کی تعیناتی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تجارتی جہازوں پر مسلح دستوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس اقدام کا مقصد ایران کو غیرملکی تجارتی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے اور ہراساں کرنے سے روکنا ہے۔

سنہ 2019 کے بعد سے ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی غرض سے قبضے کی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں اورسپاہ پاسداران انقلاب کی بحری فورسز خلیج کے تنگ ترین دہانے آبنائے ہرمز میں متعدد بحری جہازوں پر قبضہ کیا ہے۔ تجارتی بحری جہازوں پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے ایران کو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے گا یا پھر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ اقدام مشرق اوسط میں امریکی افواج کے غیر معمولی عزم کی نمائندگی بھی کرے گا کیونکہ پینٹاگون روس اور چین پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم امریکا نے نام نہاد "ٹینکر جنگ" کے دوران میں بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔اس کا اختتام 1988 میں امریکی بحریہ اور ایران کے مابین ایک روزہ بحری جنگ کے ساتھ ہوا تھا۔یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بحریہ کی سب سے بڑی جنگ تھی۔

اگرچہ امریکی حکام نے اس منصوبے کے بارے میں بہت کم تفصیل پیش کی ہے ، لیکن یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں امریکی میرین اور ملاح بحری جہاز یو ایس ایس باتعان اور لینڈنگ جہاز یو ایس ایس کارٹر ہال دونوں پر سوار ہیں۔ یہ میرین اور ملاح آبنائے ہُرمز میں کسی بھی مسلح محافظ مشن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، جس سے دنیا کے تمام خام تیل کا 20 فی صد گذرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکی تجویز کے بارے میں اے پی کی طرف سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔پانچ امریکی عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا اور اس کی وسیع تفصیل کا اعتراف کیا۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور امریکی فوجی حکام اور خطے میں امریکا کے خلیجی عرب اتحادیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ میرینز اور نیوی سیلرز صرف بین الاقوامی پانیوں میں رواں دواں جہازوں کی درخواست پر ہی سکیورٹی مہیا کریں گے۔ ایک عہدے دار نے اس عمل کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعیناتی کے لیے اس ملک کی منظوری بھی درکار ہوگی جس کا جھنڈا جہاز پر لہرا رہا ہوگا اور جس ملک کے تحت وہ رجسٹرڈ ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکی بحریہ کے مشرق اوسط میں موجود پانچویں بیڑے کے سربراہ وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہ سے ملاقات کی۔ چھے ممالک پر مشتمل اس بلاک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

اس ملاقات کے بارے میں جی سی سی کے ایک بیان میں اس تجویز کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس میں یہ کہا گیا تھا کہ کوپر اور عہدے داروں نے ’’جی سی سی - امریکا تعاون کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے‘‘ پر تبادلہ خیال کیا۔

باتعان اور کارٹر ہال 10 جولائی کو ورجینیا کے شہر نارفوک سے ایک مشن پر روانہ ہوئے تھے جس کے بارے میں پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے پانیوں میں تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی حالیہ کوششوں کا توڑ کریں گے۔ باتعان گذشتہ ہفتے آبنائے جبرالٹر سے ہوتے ہوئے بحیرہ روم میں داخل ہوا تھا۔

امریکا پہلے ہی اے-10 تھنڈر بولٹ ٹو جنگی طیارے، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ تباہ کن جہاز یو ایس ایس تھامس ہڈنر بھی خطے میں بھیج چکا ہے۔

اس پیش رفت نے ایران کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے اور اس کے وزیرخارجہ نے ہمسایہ ممالک کو بتایا ہے کہ خطے کو سکیورٹی مہیا کرنے والے "غیر ملکیوں" کی ضرورت نہیں ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز خلیج کے متنازع جزیروں پر ایک اچانک فوجی مشق کا آغاز کیا۔اس میں چھوٹی تیز رفتار کشتیوں، پیراٹروپرز اور میزائل یونٹوں نے حصہ لیا تھا۔

امریکا نے دنیا بھر میں ان بحری جہازوں کا بھی تعاقب کیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پابندیوں کا شکار ایرانی تیل لے کر جارہے ہیں۔ تیل کی صنعت کو ایران کی تیل کی ایک اور کھیپ کی ضبطی پر تشویش لاحق ہے۔مبیّنہ طور پر ایرانی تیل لے جانے والا ایک جہاز ٹیکساس کے قریب پھنس گیا ہے کیونکہ کسی بھی کمپنی نے اس پر لدا تیل ابھی تک اتارا نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں