بھارت میں مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے بغیر لائسنس لیپ ٹاپ،ٹیبلٹس کی درآمد پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت نے لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور پرسنل کمپیوٹر کی درآمد کے لیے فوری طور پر لائسنس کی شرط عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس اقدام سے ایپل، ڈیل اور سام سنگ جیسی کمپنیوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور انھیں مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

بھارت میں موجودہ قوانین کمپنیوں کو آزادانہ طور پر لیپ ٹاپ درآمد کرنے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن نئے قانون کے تحت ان مصنوعات کے لیے خصوصی لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے۔بھارت نے قبل ازیں سنہ 2020 میں ملک میں آنے والی ٹی وی کی کھیپوں کے لیے ایسی ہی پابندی عاید کی تھی۔

اس صنعت سے وابستہ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ لائسنس کے نظام کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر نئے ماڈل کے لانچ کے لیے طویل انتظار کریں گے ، اور یہ بھارت میں تیوہاروں کے موسم سے ٹھیک پہلے آئے گا جب عام طور پر فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔

حکومت نے اپنے نوٹی فکیشن میں اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی، لیکن وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اپنے "میک ان انڈیا" منصوبے کے تحت مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہی ہے اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔

اپریل سے جون کی مدت کے دوران میں بھارت کی الیکٹرانکس درآمدات ، جن میں لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ اور پرسنل کمپیوٹر شامل ہیں، 19.7 ارب ڈالر رہی اور یہ سال بہ سال 6.25 فی صد زیادہ اضافے کی غماز ہیں۔

ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ کا اندازہ ہے کہ بھارت کی لیپ ٹاپ اور پرسنل کمپیوٹر مارکیٹ کی سالانہ مالیت 8 ارب ڈالر ہے، جس میں سے دو تہائی درآمد کیے جاتے ہیں۔

ایمکے گلوبل کی ماہر اقتصادیات مادھوی اروڑا کا کہنا ہے کہ’’ ایسا لگتا ہے،اس کا مقصد "کچھ اشیاء کا متبادل ہے جو بھاری مقدار میں درآمد کی جاتی ہیں۔

ایپل، ڈیل اور سام سنگ نے فوری طور پر حکومت کے نئے فیصلے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ وہ ایسر، ایل جی الیکٹرانکس، لینوو اور ایچ پی انکارپوریٹڈ کے ساتھ مل کر ہندوستانی مارکیٹ میں لیپ ٹاپ کے کچھ اہم فروخت کنندگان ہیں۔

ایک سرکاری ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جن شپمنٹس کا آرڈر دیا گیا ہے،انھیں 31 اگست تک لائسنس کے بغیر اجازت دی جائے گی۔

توقع ہے کہ اس اقدام سے ڈکسن ٹیکنالوجیز جیسے کنٹریکٹ مینوفیکچررز کو فائدہ پہنچے گا، جن کے حصص میں خبروں پر سات فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس اقدام کا مقصد مینوفیکچرنگ کو بھارت میں فروغ دینا ہے۔ الیکٹرانکس انڈسٹری باڈی ایم اے آئی ٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل علی اختر جعفری نے کہا:’’یہ ایک جھٹکا نہیں،بلکہ ایک دھکا ہے‘‘۔

درایں اثناء بھارت نے آئی ٹی ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی غرض سے کمپنیوں کی دو ارب ڈالر کی ترغیبی اسکیم کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔یہ اسکیم عالمی الیکٹرانکس سپلائی چین میں پاور ہاؤس بننے کے بھارت کے عزائم کی کلید ہے۔اس اسکیم کے تحت بھارت نے 2026ء تک 300 ارب ڈالر کی سالانہ پیداوار کا ہدف مقررکیا ہے۔

ایک اور سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے علاوہ، حکومت کے اس اقدام کا مقصد چین سے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کی سپلائی کو روکنا ہے، کیونکہ اسے ایسی مصنوعات سے سکیورٹی خدشات ہیں۔

بھارت کی ممنوعہ اشیاء کا نصف حصہ چین سے بھیجا جاتا ہے۔چین کے ساتھ 2020 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے بھارت کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس نے ہمسایہ ملک سے سرمایہ کاری اور تجارت کو روکنے کے لیے چین مخالف کئی اقدامات کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں