لڑائی کی وجہ سے 20 ملین سوڈانی فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں: اقوام متحدہ

سوڈان کی 42 فیصد سے زیادہ آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوگئی ہے: ایف اے او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے کہا کہ سوڈان میں خوراک کے شدید عدم تحفظ میں مبتلا افراد کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ نے تقریباً 40 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے۔ یہ نقل مکانی اندرون ملک اور بیرون ملک کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے ایک بیان میں کہا کہ 20.3 ملین سے زیادہ لوگ جو ملک کی 42 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مئی 2022 میں کیے گئے آخری تجزیے کے نتائج کے مقابلے میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار لوگوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم نے سوڈان کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دے دیا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ 6.3 ملین افراد اس وقت بھوک کی وجہ سے ھنگامی مدد کے مستحق ہیں۔

تنظیم کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ریاستیں وہ ہیں جہاں لڑائی جاریہے۔ ان علاقوں میں خرطوم، جنوبی اور مغربی کورڈوفن، وسطی، مشرقی، جنوبی اور مغربی دارفور شامل ہیں۔ ان علاقوں میں نصف سے زیادہ آبادی کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔

یاد رہے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان 15 اپریل کو لڑائی شروع ہوئی تھی۔ اس لڑائی میں اب تک کم از کم 3 ہزار 9 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں