جدید چین کے معمار ڈینگ ژیاؤپنگ؛ جو ماسکو سے واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جدید چین کی ترقی میں عوامی جمہوریہ کے بانی ماؤزے تنگ کے بعد ڈینگ ژیاؤ پنگ کو چین کے انقلابی لیڈر کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے دور میں لائی گئی ہمہ جہت انقلابی اصلاحات سے ’گراں خواب چینی‘ تیزی کے ساتھ سنھبلنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ ژیاؤ پنگ کو جدید چین کا ’معمار’ کہا جاتا ہے۔

نو ستمبر 1976 کو عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کی موت کے بعد ملک میں دھیرے دھیرے ڈینگ ژیاؤ پنگ کا نام ابھرنے لگا۔ وہ ایک انقلابی لیڈر ثابت ہوئے جن کی لائی گئی اصلاحات نے چین میں بیداری کی نئی لہر پیدا کی۔

ڈینگ ژیاؤپنگ کے دور میں عوامی جمہوریہ چین میں بنیادی تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے میں آئیں۔ انہوں نے بیجنگ کو منڈی کی معیشت کی طرف منتقل کیا۔ ان کی اصلاحات نے بہت سے بڑے بین الاقوامی اداروں کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان اصلاحات کی بہ دولت ڈینگ ژیاؤپنگ کو جدید چین کا معمار کہا جاتا ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے عروج اور چینی خانہ جنگی میں کمیونسٹ کی فتح سے پہلے ڈینگ ژیاؤپنگ کئی ممالک میں گئے۔ ژیاؤ پنگ فرانس کے علاوہ سوویت یونین میں مقیم رہے اور اپنے وطن واپس آنے سے پہلے ماسکو کی اہم یونیورسٹیوں میں سے ایک میں تعلیم حاصل کی۔

پیرس سے ماسکو تک

فرانس میں اپنے مختصر قیام کے دوران ڈینگ ژیاؤپنگ کو سکیورٹی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عرصے کے دوران فرانسیسی پولیس نے 1926ء کے اوائل میں ڈینگ ژیاؤپنگ کی سرگرمیوں کی چھان بین کی کیونکہ ان پر پیرس میں رینالٹ فیکٹری کے کارکنوں میں کمیونسٹ خیالات پھیلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

 ڈینگ ژیاؤپنگ سنہ 1979
ڈینگ ژیاؤپنگ سنہ 1979

اس کے خلاف الزام ثابت ہونے کے بعد فرانسیسی پولیس نے 1904ء میں پیدا ہونے والے اس چینی نوجوان کو ملک سے نکالنے کی تیاری کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی۔

اس سے پہلے کہ انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ژیاؤپنگ نے خود ہی فرانس چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے اگلے ٹھکانے میں سوویت یونین کا انتخاب کیا۔ اس وقت سوویت یونین کو مزدوروں کی جنت قرار دیا جاتا تھا۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے یورپی بیورو نے ڈینگ ژیاؤپنگ کو اپنے 18 چینی ساتھیوں کے ہمراہ سوویت یونین بھیجنے کے خیال کی حمایت کی۔ اپنی ملاقاتوں میں اس وقت کے دفتر کے عہدیداروں نے بالشویک انقلاب کے اصولوں کو جاننے اور کمیونسٹ سرگرمیوں کے میدان میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے اس گروپ کو ماسکو بھیجنے کی ضرورت پر بات کی۔

ماسکو میں تعلیم کا حصول اور چین واپسی

جنوری 1926ء میں سوویت سرزمین پر پہنچ کر ڈینگ ژیاؤپنگ نے مشرق کے سوویت ورکرز کی کمیونسٹ یونیورسٹی میں اندراج کی تیاری کے لیے ماسکو میں اسٹراسٹنائے یونیورسٹی میں قیام کیا۔

ماسکو میں قیام کے فوراً بعد ڈینگ ژیاؤپنگ نے ماسکو کی ’سن یات سین یونیورسٹی‘ میں داخلہ لیا۔ یہ یونیورسٹی چرچ آف کرائسٹ دی سیویئر کے قریب تھی جسے سٹالن نے 1931ء میں منہدم کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس عرصے کے دوران لینن اور ٹراٹسکی کے ساتھ بالشویک انقلاب کے رہ نماؤں میں سے کارل راڈک نے اس یونیورسٹی کے ڈین کے عہدے پر ذمہ داریاں سنھبالی تھیں۔

اس کے بعد ڈینگ ژیاؤ پنگ نے چینی طلباء کے برین واشنگ کے پروگرام کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان طلبا کو وطن واپسی سے پہلے کمیونسٹ خیالات اور بالشویک انقلاب کی اقدار سے روشناس کیا جاتا۔

سوویت مفادات کے لیے اپنی لگن کے باوجود 1937ء میں سٹالن کی طرف سے راڈیک پرغداری کا الزام لگایا گیا اور اسے جبری مشقت کے کیمپ میں بھیج دیا گیا، جہاں وہ پراسرار حالات میں وفات پا گئے۔

یونیورسٹی کے عرصے میں ڈینگ ژیاؤپنگ کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ سوویت حکام نے انہیں سردیوں اور گرمیوں کے موسموں کے لیے مناسب کپڑے فراہم کیے جاتے تھے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر تین وقت مکمل کھانا ملتا۔

 ڈینگ ژیاؤپنگ امریکی صدر جمی کارٹر کے ہمراہ
ڈینگ ژیاؤپنگ امریکی صدر جمی کارٹر کے ہمراہ

دوسری طرف اس چینی نوجوان نے متنوع شعبوں میں تعلیم حاصل کی۔ اس لیے اس نے روسی زبان، مادی اور سماجی تعلقات کی تاریخ کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے نظام اور مشرق و مغرب میں کمیونسٹ تحریکوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ اس کے علاوہ ڈینگ ژیاؤپنگ نے جغرافیہ اور معاشیات کا مطالعہ کیا۔ سن یات سین یونیورسٹی میں سوویت یونین نے اپنے چینی طلباء کے لیے تقریباً 150 پروفیسرز فراہم کیے، جو ہفتے میں چھ دن روزانہ آٹھ گھنٹے پڑھاتے تھے۔

اس کے علاوہ ڈینگ ژیاؤپنگ نے سن یات سین یونیورسٹی میں صرف ایک سال تک تعلیم حاصل کی۔ سوویت حکام کی منظوری سے ماسکو نے یونیورسٹی کے بہترین طلباء کو چین بھیج دیا تاکہ وہاں چینی کمیونسٹوں کی حمایت کی جا سکے۔

منتخب ہونے والوں میں ڈینگ ژیاؤپنگ بھی شامل تھے جنہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے اور 12 جنوری 1927 کو سوویت یونین چھوڑ کر وطن واپس آنے پر مجبور کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں