جنگ زدہ یوکرین امن کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں

مجوزہ امن مذاکرات اختتام ہفتہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونا قرار پائے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یوکرین اور اس کے اتحادیوں کا مقصد اس ہفتے کے آخر میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں خطے میں امن کا خاکہ تیار کرنے کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا ہے لیکن اس پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آیا چین ان میں حصہ لے گا یا نہیں۔

یوکرینی اور مغربی سفارت کاروں کو امید ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں اور تقریباً 40 ممالک کے اعلیٰ حکام جدہ میں ہونے والے اجلاس میں ان کلیدی اصولوں پر متفق ہو جائیں گے جو یوکرین میں روس کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی امن مفاہمت کی بنیاد رکھیں گے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ اقدام اس موسم خزاں میں دنیا بھر کے رہنماؤں کی "امن سربراہی اجلاس" میں اُن اصولوں کی توثیق کا باعث بنے گا جو انہی کے 10 نکاتی فارمولے پر مبنی ہوں۔

یوکرینی، روسی اور بین الاقوامی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت یوکرین اور روس کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ جنگ کا الاؤ مسلسل دہک رہا ہے اور کیف جوابی کارروائی کے ذریعے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ نہ جدہ کی میٹنگ روس کو (اس میں) شامل کرے گی اور نہ امن کانفرس جو جمعے کو شروع ہونے کی توقع ہے اور اس میں ہفتے اور اتوار کو بنیادی معاملات پر گفتگو ہوگی۔

اس کی بجائے یوکرین کا مقصد اپنے نظریۂ امن کی سفارتی حمایت کے لیے ایک بڑا اتحاد بنانا ہے جو اس کے مغربی اتحادیوں کے بنیادی گروپ سے ماورا ہو اور اس کے لیے عالمی جنوبی ممالک مثلاً بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ، اور ترکیہ تک پہنچا جائے۔

صدر زیلینسکی کے سفارتی مشیر اعلیٰ آئیہور زووکوا نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ "مذاکرات کے اس مرحلے کا ایک بنیادی مقصد عام فہم و فراست پیدا کرنا ہے کہ یہ دس نکات کس بارے میں ہیں۔"

ان دس نکات میں یوکرین کی علاقائی سالمیت کی مکمل بحالی، روسی فوجیوں کی مکمل دستبرداری (انخلاء)، خوراک اور توانائی کی فراہمی کا تحفظ، جوہری تحفظ اور تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل ہے۔

لیکن مغربی حکام کا خیال ہے کہ چین کے بغیر یہ اقدام ماسکو پر محدود سا ہی دباؤ ڈال سکے گا کیونکہ چین کے روس سے قریبی اقتصادی اور سفارتی تعلقات ہیں اور اس نے یوکرین پر روس کی یلغار کی مذمت کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یورپی کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا۔ "میں ضرور سمجھتا ہوں کہ یہ نازک معاملہ ہے کہ صرف بھارت، برازیل، اور دیگر کلیدی شراکت دار ہی نہیں بلکہ چین بھی مذاکرات کی اس میز پر موجود واقعی امن کی بات کر رہا ہوگا۔"

زووکوا نے کہا "یوکرین میں چین کے سفیر نے امن کے اقدام پر کیف میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور جدہ مذاکرات میں چین کی شمولیت کے لیے یوکرین کام کر رہا ہے۔"
انہوں نے کہا۔ "یہ اقدام میز پر ہے۔"

جب رائیٹرز نے پوچھا کہ آیا چین ان مذاکرات میں حصہ لے گا تو چینی وزارتِ خارجہ نے براہِ راست جواب نہیں دیا۔

وزارت نے کہا "چین صورتِ حال کی شدت میں کمی لانے میں ایک تعمیری کردار ادا کرتے رہنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے پر رضامند ہے۔"

اناج معاہدہ

عالمی جنوبی ممالک کی حمایت کے حصول کے لیے مغربی حکام کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر زور دیں گے کہ جب سے روس نے بحیرۂ اسود کے راستے یوکرینی اناج کے محفوظ سفر کی اجازت کا معاہدہ ترک کیا ہے اور یوکرینی بندرگاہی سہولیات پر ہوائی حملوں کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے، خورونوش کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔

یورپی کمیشن کے اہلکار نے کہا"ہم یقیناً اس نکتے پر بات کریں گے اور بآوازِ بلند اور واضح کریں گے۔"

گذشتہ ستمبر میں یوکرین اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں سعودی عرب نے ترکیہ کے ساتھ مل کر ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

زیلنسکی نے اس سال مئی میں سعودی عرب میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جنگ میں ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔

یورپی یونین کے ایک دوسرے سینئر عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب "دنیا کے ان حصوں میں پہنچ گیا ہے جہاں (یوکرین کے) کلاسیکی اتحادی اتنی آسانی سے نہیں پہنچ پائیں گے۔"

توقع ہے کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان مذاکرات میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے بدھ کو کہا کہ "یہ ابھی اس عمل کا آغاز ہے۔ یاد رکھیں کہ یوکرین میں اب بھی فعال لڑائی جاری ہے۔"

اس ہفتے کے شروع میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں سوال پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ "روس کو ان کے مقاصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ کیا بات چیت کی جائے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں