دفاعی تعاون کومضبوط بنانے کے لیے امریکی جوہری آبدوز مغربی آسٹریلیا میں آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی تعاون کے حصے کے طور پرامریکا کی ایک جوہری آبدوز نے مغربی آسٹریلیا کے پانیوں کا دورہ کیا۔ جوہری آبدوز کی آمد کا مقصد جوہری صلاحیتوں کو آسٹریلیا کو منتقلی ہے۔ اسی ضمن میں ایک جوہری آبدوز آج جمعہ کو مغربی آسٹریلیا پہنچی۔

نئی ایٹمی آبدوزیں

امریکی حکام نے تفصیلات میں بتایا کہ بحر ہند اور بحر الکاہل میں گشت کے ایک حصے کے طور پر بندرگاہ کے طے شدہ دورے پر آسٹریلین نیول بیس سٹرلنگ پر ورجینیا کلاس کی امریکی بحریہ کی آبدوز کی آمد کی اطلاع دی گئی ہے۔

آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان اوکوس معاہدے کے تحت پورٹ سٹرلنگ کی 2027ء تک امریکی اور برطانوی جوہری آبدوزوں کا اڈہ بننے کے لیے اس کی توسیع پر 8 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا سنہ 2040ء تک تین نیوکلیئر آبدوزیں خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سمندر میں مشترکہ گشت

اگرچہ امریکی فوج کا آسٹریلیا میں کوئی اڈہ نہیں ہے، لیکن وہ وہاں گشت کرنے کے لیے مختلف شاخوں سے فوجیوں کی تعداد بڑھا رہی ہے۔

دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ نے کہا کہ امریکا اس سال فوجی اسٹورز کو گولہ بارود سے بھر دے گا اور اگلے سال ایک مشترکہ انٹیلی جنس سینٹر قائم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا شمالی علاقوں میں متعدد فضائی اڈوں کی تجدید کاری میں بھی حصہ لے گا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کمک ایک طرف مغرب اور دوسری طرف ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ امریکی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

بحیرہ چین نے حال ہی میں طاقت کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے کیونکہ گذشتہ برسوں میں بہت سے امریکی جنگی جہاز تیزی سے ان علاقوں سے گزرے ہیں۔

13 ممالک کے 34 ہزار فوجی

خیال رہے کہ آسٹریلیا اور امریکا اس ماہ دو بڑی فوجی مشقیں کر رہے ہیں جن کا مقصد آسٹریلیا کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

بھارتی بحریہ کے دو بحری جہاز اگلے جمعہ کو آسٹریلیا کے مشرقی ساحل پر چار فریقی سکیورٹی ڈائیلاگ پارٹنرز، امریکا، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ ملبار مشقوں میں شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ مشترکہ فوجی مشقیں تالیسمان سائبر جس میں 13 ممالک کے 34000 فوجی شریک تھے آج ختم ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں