طالبان نے خمینی فاؤنڈیشن کے دفاتر کی سرگرمیاں معطل کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان حکومت نے پہلے ایرانی رہنما خمینی کے دفتر سے وابستہ امدادی تنظیم ’’ خمینی فاؤنڈیشن‘‘ کی نمائندگی کرنے والے دفاتر کو معطل کر دیا ۔ اس کمیٹی کے سربراہ خمینی کے پوتے حسن خمینی ہیں۔

خمینی فاؤنڈیشن کے ترجمان جماران ویب سائٹ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طالبان فورسز نے کابل کے دفتر کو بند کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد مزار شریف اور ہرات کے شہروں میں دفاتر کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔

ویب سائٹ ’’ جماران‘‘نے مزید کہا کہ طالبان فورسز نے ایران کے ساتھ سرحد پر واقع صوبہ نمروز کے مرکز میں کمیٹی کے دفاتر کا معائنہ کیا لیکن وہ اب بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ویب سائٹ نے کہا کہ طالبان تحریک کی طرف سے کمیٹی کے دفاتر کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جاری کردہ نیا حکم پیشگی اطلاع کے بغیر دیا گیا اور کوئی درست یا قانونی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ کمیٹی کے پاس کمیٹی لائسنس موجود ہے۔ یہ افغان وزارت محنت اور وزارت اقتصادیات کو ٹیکس ادا کر رہی ہے۔

جماران کے مطابق ایرانی سینٹر کی سرگرمیاں منجمد کرنے کے احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے جب بیرون ممالک کے ریلیف سنٹر کے دفاتر افغانستان میں بغیر کسی پابندی کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویب سائٹ نے کہا طالبان تحریک نے اقتدار میں واپسی کے بعد کمیٹی کی سرگرمیوں کی مخالفت نہیں کی تھی۔ اس کمیٹی کے دفاتر کابل، مزار شریف، ہرات اور زرنج ریاست نمروز کے مرکز میں ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ طالبان اور تہران کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں کشیدہ رہے ہیں جس کی وجہ افغانستان کے حکمرانوں پر دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع دریائے ہلمند میں پانی کا حصہ بڑھانے کے لیے ایرانی دباؤ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں