اسرائیل کے سیکڑوں ڈاکٹر ملک چھوڑنے کو تیار، کیا ان کی اگلی منزل عرب ممالک ہوسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل میں شدت پسند حکومتی اتحاد کی جانب سے منظور کرائی گئی متنازع عدالتی اصلاحات کےخلاف احتجاج کے اثرات تقریباً ہر شعبے میں بڑے پیمانے پر دیکھے جا رہے ہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی بنجمن نیتن یاھو، بزلئیل سموٹرچ اور ایتمار بن گویر کے نام نہاد عدالتی اصلاحات کے خلاف تقریبا 500 ڈاکٹروں نے ملک چھوڑنے کی تیاری کرلی ہے جب کہ سیکڑوں مزید ڈاکٹر ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

پانچ سو ڈاکٹروں کا ملک سے چلے جانے کی تیاری کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی ریاست میں تقریبا دو ہزار ڈاکٹروں نے ایک ایسی دستاویز پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے متنازع عدالتی اصلاحات واپس نہ لیں تووہ سروس چھوڑ کر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوں گے۔

ڈاکٹروں کے ملک سے چلے جانے کی تیاری کی خبر نے حکومتی حلقوں میں ہل چل پیدا کردی ہے۔ اسرائیلی وزیر صحت ’موشے اربیل‘ نے مزید ڈاکٹروں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع کی ہیں۔ گذشتہ دو روز میں وہ اس حوالے سے کئی اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔ انہیں بہ خوبی اندازہ ہے کہ اگر سیکڑوں ڈاکٹر ایک ہی وقت میں ملک چھوڑ جاتے ہیں تو اس سے صحت کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔

اسرائیلی ایسوسی ایشن آف پبلک ہیلتھ فزیشنز کے صدر اور ڈاکٹروں کی احتجاجی مہم کے رہ نماؤں میں سے ایک پروفیسر ہاگائی لیون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈاکٹروں اور مظاہرین کے مسلسل احتجاج پر حکومت کی طرف سے خاموشی اور نظر انداز کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے دوران ہم نے حکومت کی پالیسی اور جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوششوں کے اثرات پر خبردار کیا تھا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل میں صحت کی صورتحال، حکومت کی موجودہ پالیسی اور وزیروں کو قانون سے بالاتر بنانے کی کوششوں کی روشنی میں ڈاکٹروں کے لیے وہاں کام کرنا ناممکن بناتی ہے۔ ملک چھوڑنے کا یہ ایک مضبوط مقصد ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور یہ بحران اسرائیل کے وجود کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ اس سے اسرائیل ترقی یافتہ ممالک کی فہرست سے نکل کر ایک پسماندہ اور انتہا پسند ریاست میں بدل جائے گا۔

عدالتی اصلاحات نہ صرف غیر جمہوری بلکہ عوام کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ پروفیسر لیون نے نشاندہی کی کہ اسرائیل میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہے جو یہاں اپنا کام چھوڑ دیں گے، اپنا سامان پیک کریں گے اور ہجرت کریں گے، بلکہ وہ نوجوان جو بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں سے بھی کئی نوجوانوں نے وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل "12" کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کو متحدہ عرب امارات، بحرین اور خطے کے دیگر ممالک سے اپنے ہاں ہسپتالوں میں کام کرنے کے لیے پرکشش پیشکشیں موصول ہوئی ہیں۔ پروفیسر لیوین نے کہا کہ "اسرائیل چھوڑنے والے ڈاکٹروں کی اگلی منزل ایسے ممالک ہوگی جو جن کے ہاں ڈاکٹروں کی قلت ہے۔"

ماہرین کا خیال ہے کہ طب کے شعبے میں مہارت کی وجہ سے کئی عرب ممالک اسرائیلی ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل چھوڑنے والے ڈاکٹروں کی اگلی منزل عرب ممالک بھی ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان ملکوں میں نیوزی لینڈ، سویڈن، پرتگال، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ممالک اسرائیلی ڈاکٹروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ملک چھوڑنے پر غور کرنے والے ڈاکٹروں نے ایک "واٹس ایپ" گروپ بنایا۔ شروع میں اس گروپ میں 30 ڈاکٹر شامل ہوئے۔ اسی دن شام کو اس گروپ میں شامل ہونے والے معالجین کی 1,000 سے زیادہ ہوگئی۔ اب یہ تعداد مزید بڑھ کر دو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری طرف ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹروں کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے دھونس کے ساتھ لالچ کے ذریعے انہیں بہلانے کی کوشش شروع کی ہے۔

دوسری جانب بعض ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل میں ملنے والی تنخواہ سے تین گنا زیادہ مشاہرے کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔

ڈاکٹروں کے بیرون ملک نقل مکانی کے لیے حرکت میں آنے کے بعد وزراء کی بھی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ وزیر صحت نے متعدد اجلاس منعقد کر کے اس معاملے پر غور کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل میں تین سو ڈاکٹر ملک چھوڑ جاتے ہیں تو اس سے صحت کے شعبے میں بحران پیدا ہوگا جب کہ مزید ڈاکٹروں کی نقل مکانی کی صورت میں صحت کا شعبہ سنگین المیے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں