امریکی فوج تاریخ میں پہلی بار سینیٹ سے قیادت کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی آرمی جمعہ کو امریکی ملٹری کی دوسری شاخ بن کر رہ گئی کیونکہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ اس کے پاس سینٹ سے منظور شدہ لیڈر نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ سینٹ میں ایک ریپبلکن سینیٹر نے فوجی نامزدگیوں کو روک دیا ہے۔ اس صورت حال پر فوجی رہنماؤں نے کہا کہ اس اقدام سے افسروں کے برقرار رہنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

آرمی کے ریٹائر ہونے والے چیف آف سٹاف جنرل جیمز میک کونول نے جمعہ کو کمان چھوڑ دی۔ پینٹاگون نے کہا کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا کہ امریکی فوج کی دو شاخیں آرمی اور میرین کور ایسی ہوں گی جن کے لیڈر تصدیق شدہ نہیں ہوں گے۔

ریپبلکن سینیٹر ٹومی ٹوبرویل، جو الاباما کی نمائندگی کرتے ہیں، نے سینکڑوں فوجی نامزدگیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ ٹومی ٹوبرویل نے کہا ہے کہ پینٹاگون سروس ممبران اور ان کے زیر کفالت افراد کے اسقاط حمل کے لیے سفری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حکومتی فنڈنگ کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعہ کو ایک تقریب کے دوران کہا کہ سلامتی کی خطرناک صورت حال میں امریکہ اپنے تصدیق شدہ فوجی رہنماؤں کی منظم اور فوری منتقلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ عظیم ٹیموں کو عظیم لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جنرل رینڈی جارج قائم مقام چیف آف سٹاف کے طور پر کام کریں گے۔

یاد رہے امریکی میرین کور اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ جولائی کے اوائل سے سینیٹ سے تصدیق شدہ لیڈروں کے بغیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں