مصر میں نیا بھیانک اسکینڈل، شادی سے انکار پرلڑکی کوذبح کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصرمیں جہاں چند ماہ قبل ایک لڑکی کو شادی سے انکار پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا ایسی ہی ایک اور لرزہ خیز واردات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

شمالی مصر کی المنوفیہ گورنری کے شہر برکہ السبع میں پیش آنے والے تازہ خونی واقعے میں ایک لڑکی کو اس کے ساتھی نے اس کے ساتھ شادی سے انکار پر ذبح کر دیا۔

اس واقعے نے چند ماہ قبل پیش آنے والے نیرہ اشرف کے لرزہ براندام قتل کے واقعے کی یاد تازہ کردی ہے۔ المنوفیہ کی جامعہ المنصورہ کے گیٹ پر یہ المناک واقعہ کل جمعہ کو پیش آیا جس کے بعد عوامی حلقوں میں اس پر سخت رد عمل اور غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جان لیوا وار

مینوفیہ کے شہر برکہ السبع کی ایک سڑک پر راہگیر اس وقت حیران رہ گئے جب ایک نوجوان نے شادی سے انکار کرنے پر ایک طلاق یافتہ خاتون کو ذبح کر دیا اور اس پر کئی جان لیوا وار کیے۔

سرویلنس کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو میں اس گھناؤنے جرم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے ملزم ہانی سالم نامی نوجوان نے اپنی والدہ کے ساتھ چلنے والی فاطمہ سالم رضوان نامی طلاق یافتہ خاتون کے قریب آیا اور پھر اس پر حملہ کردیا اور چاقو سے وار کیے۔ اس نے اس کی گردن پر چاقو چلا کر اسے جان سے مار ڈالا۔

بدسلوکی کی وجہ سے رشتے سے انکار ہوا تھا

معلوم ہوا ہے کہ خاتون کو کچھ عرصہ قبل طلاق ہوئی تھی اور نوجوان نے اسے پرپوز کیا تھا لیکن اس کے گھر والوں نے اسے اس کے برے رویے کی وجہ سے ٹھکرا دیا تھا اور اس پر پہلے بھی چوری کے مقدمات کا الزام تھا۔

پبلک پراسیکیوشن نے جرم کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اس نے ملزم کو احتیاطی اقدام کے طور پر چار دن کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم پر خاتون کو منصوبہ بندی سے قتل کرنے کا الزام ہے۔

ملزم کا اعتراف جرم

ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ واقعہ اس سے سرزد ہوا ہے اور جائے وقوعہ پر موجود سرویلنس کیمروں میں واردات کی ریکارڈنگ بھی ہوئی ہے جس سے ملزم کو پکڑنے میں مدد ملی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے خاتون کا پیچھا کیا۔ وہ اپنی ماں کے ہمراہ سڑک پر جا رہی تھی کہ ملزم نے اس کا تعاقب کرکے اسے چاقوسے قتل کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قاتل اور مقتولہ کے خاندانوں کے درمیان اختلافات بھی چل رہے تھے۔ لڑکی والوں پر غصہ اس لیے تھا کہ انہوں نے ملزم کو رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری طرف مقتولہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہم ملزم کو پہلے سے اس کے ’کرتوتوں‘ کی وجہ سے اچھی طرح جانتے تھے۔ رشتے سے انکار کی وجہ اس کا خراب ریکارڈ تھا کیونکہ ملزم چوری کے جرم میں سزا کاٹ چکا تھا۔

دوسری طرف ملزم نے ایک اور دعویٰ کیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہےجس چیز نے اسے قتل کرنے پر اکسایا وہ لڑکی کے خاندان کے ساتھ اس رقم کی واپسی پر جھگڑا تھا جو اس نے اپنی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے ادا کی تھی۔

جب کہ پبلک پراسیکیوشن نے مقتولہ کی لاش کا معائنہ کیا جس کے بعد اس کی لاش فارنزک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کو پوسٹ مارٹم کے لیے حوالے کردی ہے۔

گزشتہ سال مصر میں محبت اور لڑکیوں کی جانب سے کچھ نوجوانوں سے شادی سے انکار کی وجہ سے ایسی ہی ہلاکتیں دیکھنے میں آچکی ہیں۔

گذشتہ سال نیرہ اشرف کے قتل کا ایسا ہی لرزہ خیز سانحہ رونما ہو تھا۔ ملزم محمد عادل نے شادی سے انکار پر نیرہ کو قتل کردیا تھا۔ نیرہ کے قاتل کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس سزا کو اپیل عدالت میں چیلنج کیا مگر اپیل کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی۔ اپیل عدالت کی طرف سے سزا برقرار رکھے جانے کے بعد گذشتہ جون میں مجرم کو پھانسی دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں