اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے خلاف دوبارہ مظاہرے شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں ہزاروں شہریوں نے سنیچر کو تل ابیب اور دیگر شہروں میں حکومت کے عدالتی اصلاحات منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے۔

مظاہرین، سخت گیر مذہبی حکومت کے اس اصلاحاتی منصوبے کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اصلاحاتی منصوبہ

جنوری میں حکمران اتحاد کی جانب سے تجویز کرنے کے بعد سے اس اصلاحاتی منصوبے نے اسرائیلی معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔

حکمران اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی انتہائی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ پارلیمنٹ نے اصلاحاتی پیکج میں پہلے بل کی منظوری دی تھی۔

یہ بل کچھ حکومتی فیصلوں پر عدالتی نگرانی کو محدود کرتا ہے۔

مظاہرین ملک بھر میں ہفتہ وار مظاہروں کے ذریعے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین کی شرکت

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہزاروں مظاہرین تل ابیب میں جمع ہوئے، کچھ اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے اور "جمہوریت، جمہوریت" کے نعرے لگا رہے تھے۔

اسرائیلی حکومت ان اصلاحات کو ناگزیر سمجھتی ہے جس سے سیاست دانوں کو عدلیہ پر زیادہ اختیارات حاصل ہوجائیں گے اور عدالت کی مداخلت کم ہوگی۔ مخالفین کو خدشہ ہے کہ اصلاحات آمرانہ بڑھوتری کی راہ ہموار کریں گی۔

نیتن یاہو، جن پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے، نے کہا کہ وہ ثالثی کی سابقہ ​​کوششوں کی ناکامی کے باوجود اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں