سعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین مذاکرات؛شرکاء کا مشاورت جاری رکھنے پراتفاق

امریکا نے جدہ میں یوکرین میں قیام امن کے لیے مذاکرات کو’تعمیری‘ قرار دیے دیا،سعودی عرب کا شکرگزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جدہ میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کا پرامن حل تلاش کرنے کے مقصد سے سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور شرکاء نے یوکرین اور روس کے درمیان امن تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اتوار کے روز خبر دی ہے کہ شرکاء نے بین الاقوامی مشاورت اور تبادلہ خیال اس انداز میں جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے جس سے یوکرین میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے مشترکہ بنیادوں کی تعمیر میں مدد مل سکے۔

شرکاء نے اجلاس کے دوران میں زیر بحث آنے والی مثبت آراء اور تجاویز سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انھوں نے یوکرین کے امن فارمولے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

العربیہ نے سعودی ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ اتوار کے روز مذاکرات میں شریک ممالک کے نمائندوں نے رابطہ کاری اور باہمی تعاون سے متعلق بات چیت مکمل کی۔

امریکا، چین اور بھارت سمیت 40 سے زیادہ ممالک کے قومی سلامتی کے مشیران اور اعلیٰ حکام ہفتے کے روز سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں دو روزہ مذاکرات کے لیے جمع ہوئے تھے۔روس نے مذاکرات میں شرکت نہیں کی لیکن کریملن کا کہنا تھا کہ وہ جدہ اجلاس کی کارروائی پر گہری نظر رکھے گا۔

دریں اثناء امریکا کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کا پُرامن حل تلاش کرنے کے مقصد سے جدہ میں ہونے والے مذاکرات کو ’تعمیری‘قرار دیا ہے اور ان مذاکرات کی میزبانی پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی عہدہ دار نے العربیہ سے گفتگو میں جدہ میں مذاکرات کو ’’اچھا اور تعمیری‘‘ قراردیاہے اور کہا کہ یوکرین میں منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت اور جنگ کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے اور یوکرین اور دنیا بھر میں روس کی جنگ کے عملی نتائج سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کا یہ ایک اچھا اور تعمیری موقع تھا۔

انھوں نے مذاکرات کی میزبانی پر الریاض کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ 40 سے زیادہ ممالک نے مذاکرات میں شرکت کی اور جنگ کے بارے میں یوکرین سے براہ راست سننے اور خیالات کے تبادلے کے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کی۔

یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات ان اصولوں کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہیں جو امن کی بنیاد بن سکتے ہیں اور جس میں تمام روسی فوجیوں کا انخلا اور یوکرین کے تمام علاقوں کی اس کے کنٹرول میں واپسی شامل ہے۔

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا، وہ چاہتے ہیں کہ اس سال کے آخر میں ان اصولوں کی بنیاد پر ایک عالمی سربراہ اجلاس منعقد کیا جائے۔جدہ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیلنسکی کے ہیڈ آف اسٹاف اینڈری یرمک نے ایک بیان میں کہا:’’ہم نے ان کلیدی اصولوں پر بہت نتیجہ خیز مشاورت کی جن پر ایک منصفانہ اور دیرپا امن قائم کیا جانا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مذاکرات کے دوران میں مختلف نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔انھوں نے انھیں ’’انتہائی ایماندارانہ اور کھلی بات چیت‘‘ قرار دیا۔

دوسری جانب روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ مذاکرات زیلینسکی کے مؤقف کے پیچھے عالمی جنوب کو متحرک کرنے کی مغرب کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

جدہ میں مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین اپنے روایتی مغربی اتحادیوں کی بنیادی حمایت کے علاوہ روس کے مقابلے میں جنوبی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ یہ ممالک یوکرین کی حمایت میں متردد رہے ہیں۔ان میں چین اور بھارت نمایاں ہیں جن کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں