لیبیا: محمد تکالہ طرابلس میں قائم اعلیٰ ریاستی کونسل کے صدر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کی اعلیٰ ریاستی کونسل (ایچ ایس سی) نے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر ہونے والی ووٹنگ میں محمد تکالہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔اس نئی پیش رفت سے حکومت کے کنٹرول اور انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی تعطل میں نئی غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

طرابلس میں قائم ایچ ایس سی 2015 کے سیاسی معاہدے کی شرائط کے تحت اہم سیاسی معاملات میں اپنی رائے رکھتی ہے اور لیبیا کے مشرق میں قائم مرکزی پارلیمان ایوان نمائندگان کے ساتھ مذاکرات کر کررہی ہے۔

طرابلس میں ہونے والی ووٹنگ میں اعلیٰ ریاستی کونسل کے ارکان نے 62 کے مقابلے میں 67 ووٹوں سے محمد تکالہ کا انتخاب کیا ہے۔انھوں نے خالدالمشری کو شکست دی ہے جو 2018 سے طرابلس میں قائم اس مشاورتی ادارے کی قیادت کر رہے تھے۔خالد المشری نے محمد تکالہ کو ان کی جیت پر مبارک باد دی ہے۔

اعلیٰ ریاستی کونسل اور ایوان نمائندگان اقوام متحدہ کے دباؤ کے تحت جنگ زدہ ملک میں انتخابات کرانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، لیکن دونوں نے کسی بھی قومی رائے شماری سے پہلے طرابلس میں عبوری حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

لیبیا کے عبوری وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے، جنھیں المشری اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر عقیلہ صالح دونوں کے سیاسی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے،کہا ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد تک عہدہ نہیں چھوڑیں گے اور گذشتہ سال انھوں نےخود کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مختصر مسلح کوششوں کا مقابلہ کیا تھا۔

لیبیا میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے لیے طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور یہ انتخابات ہی لیبیا کے تنازع کے کسی بھی دیرپا حل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2014 میں ایوان نمائندگان کو چار سال کے لیے منتخب کیا گیا تھا لیکن 2012 میں منتخب ہونے والی سابقہ پارلیمان اور سپریم کورٹ نے ووٹ کی قانونی حیثیت کو مسترد کر دیا تھا اور لیبیا میں برسرپیکار مشرقی اور مغربی دھڑے خانہ جنگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گئے تھے۔

یادرہے کہ لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں مطلق العنان صدر معمرالقذافی کا تختہ الٹنے کے بعد سے بعد سے بہت کم امن یا استحکام رہا ہے۔البتہ 2020 میں جنگ بندی کے بعد سے بڑے پیمانے پر لڑائی رک چکی ہے۔

اعلیٰ ریاستی کونسل اور ایوان نمایندگان دونوں نے ابتدائی طور پر وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کی حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے قواعد پر متفق نہیں ہوسکے اور 2021 کے آخر میں ہونے والے انتخابات کو منسوخ کردیا گیا تھا۔گیا۔ اس کے بعد انھوں الدبیبہ کے مینڈیٹ کو مسترد کردیا ہے اور نئی عبوری حکومت کے قیام پرزور دیا ہے۔

دریں اثناء لیبیا میں بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ ان اداروں کو انتخابات کے لیے قواعدوضوابط پراتفاق پر مجبور کیا جا سکے، لیکن لیبیا کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایوان نمائندگان اور اعلیٰ ریاستی کونسل کو ووٹنگ کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان دونوں اداروں کا اختیار ختم ہوجائے گا اور ان کے ارکان کو چلتا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں