یوکرین نے ڈونیٹسک یونیورسٹی کو کلسٹر گولوں سے نشانہ بنایا ہے: روسی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرقی یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول شہر ڈونیٹسک میں ایک ہنگامی اہلکار نے بتایا کہ ہفتے کو یوکرین کی بمباری کے بعد شہر میں ایک یونیورسٹی کی عمارت کی لکڑی کی چھت کو آگ لگ گئی۔

"ڈونیٹسک پر حالیہ حملے کے نتیجے میں، یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ کی پہلی عمارت میں آگ لگ گئی،" روس کے مقرر کردہ میئر الیکسی کولیمزن نے ٹیلی گرام ایپ پر کہا۔

روس اس خطے کو ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کہتا ہے۔ روس کی جانب سے اس خطے کے لیے ہنگامی وزیر الیکسی کوسٹروبیٹسکی، نے کہا کہ "ہم پانی کے 12 ٹینکروں، تین سیڑھیوں اور 100 فائر فائٹرز کا استعمال کر رہے ہیں اور پوری چھت کو آگ لگی ہوئی ہے۔"

کوسٹروبیٹسکی نے بتایا کہ یوکرینی افواج نے بمباری میں کلسٹر گولہ بارود استعمال کیا جس کی وجہ سے آگ لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے کے وقت عمارت کے اندر لوگ موجود نہیں تھے۔ ’سب سے مشکل بات یہ ہے کہ چھت لکڑی کی ہے اس لیے آگ تیزی سے پھیلتی ہے‘۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے کوسٹروپیٹسکی اور ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے بتایا کہ آگ اتوار کی صبح قابو پانے سے قبل تقریباً 1800 مربع میٹر کے علاقے میں پھیل گئی۔

یوکرین، جس نے گزشتہ ماہ امریکی کلسٹر ہتھیاروں کی سپلائی حاصل کی تھی، اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ انہیں صرف روسی فوجیوں کی ارتکاز کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

مبینہ بمباری کے بارے میں یوکرین کی جانب سے کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں