ایران کے ٹینکروں پر قبضے؛ہزاروں امریکی سیلرز اور میرینز بحیرہ احمر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے تیل بردار بحری جہازوں پرقبضے کے بعد امریکا نے خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور دو جنگی جہازوں کے ذریعے تین ہزار سے زیادہ امریکی فوجی بحیرہ احمر پہنچ گئے ہیں۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ملاح اور میرینز نہرسویز سے گذرنے کے بعد اتوار کے روز بحیرہ احمر میں داخل ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سیلرز اور میرینز یو ایس ایس باتعان اور یو ایس ایس کارٹر ہال جنگی جہازوں پر پہنچے اور وہ پانچویں بیڑے کو "کمک اور سمندری صلاحیت" مہیا کرتے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں خطے میں بین الاقوامی پرچم بردار قریباً 20 مال بردار یا تیل بردار بحری جہازوں کو یا تو قبضے میں لیا ہے یا ان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

یو ایس ایس باتعان فکسڈ ونگ اور روٹری طیاروں کے ساتھ ساتھ لینڈنگ طیارے بھی لے جا سکتا ہے۔یو ایس ایس کارٹر ہال، ایک گودی لینڈنگ جہاز ہے اور یہ میرینز، ان کے سامان، اور انھیں ساحل پر اتارتا ہے۔

امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹم ہاکنز نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’’یہ یونٹ کام کرتے وقت اہم آپریشنل لچک اور صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ایران کی تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے اور ان پرقبضے کی وجہ سے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکا جائے گا‘‘۔

امریکا نے یہ نئے فوجی اس بیان کے بعد بھیجے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی افواج نے 5 جولائی کو عمان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی تجارتی ٹینکروں کو قبضے میں لینے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘کے مطابق ان دو ٹینکروں میں سے ایک، بہاماس کا پرچم بردار رچمنڈ وائجر، ایک ایرانی بحری جہاز سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملہ کے پانچ ارکان شدید زخمی ہو گئے تھے۔اپریل اور مئی کے اوائل میں،ایران نے علاقائی پانیوں میں ایک ہفتے کے اندر دو آئل ٹینکروں کو قبضے میں لے لیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیل اور امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے عُمان کے ساحل کے قریب اسرائیلی کمپنی کے ایک ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا تھا۔

امریکا نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو خلیج میں بحری جہازوں پر قبضے سے روکنے کے لیے مشرق اوسط میں جنگی بحری جہاز، ایف 35 اور ایف 16 لڑاکا طیارے بھیجے گا۔گذشتہ ہفتے ایک امریکی عہدہ دار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ واشنگٹن دفاع کے اضافی اقدام کے طور پر خلیج سے گذرنے والے ٹینکروں پر میرینز اور بحریہ کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں