بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی بطورِ قانون ساز دوبارہ بحالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ہندوستان کے چوٹی کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو پارلیمنٹ میں ایک قانون ساز کے طور پر بحال کر دیا گیا ہے جبکہ صرف تین دن پہلے ملک کی اعلیٰ عدالت نے وزیرِاعظم کی کنیت کا مذاق اڑانے پر ان کی مجرمانہ ہتک عزت کی سزا کو روک دیا ہے۔
وزیرِاعظم کے کنیت (خاندانی نام) کا مذاق اڑانے پر ملک کی اعلی عدالت کی طرف سے مجرمانہ ہتک عزت کی سزا کو روکنے کے صرف تین دن بعد ہندوستان کی پارلیمنٹ نے پیر کو حزب اختلاف کے رہنما راہول گاندھی کو ایک قانون ساز کے طور پر بحال کردیا۔ پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر ان کی دوبارہ شمولیت سے اپوزیشن کی ان کوششوں کو تقویت ملنے کا امکان ہے جو نریندر مودی کی حکومت کو کونے میں دھکیلنے کے لیے جاری ہیں۔

اس ہفتے مہلک نسلی تشدد پر عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کی جائے گی۔ تشدد کے ان واقعات نے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پور کو تین ماہ سے زیادہ عرصے سے ناراض کر رکھا لایا ہے۔

مودی کے سخت ناقد اور 2024 کے انتخابات میں ان کے اہم مدِ مقابل گاندھی کو مارچ میں مجسٹریٹ کی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد پارلیمنٹ سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان کی سزا کے خلاف حکمِ امتناع جاری کیا تھا جس کا مطلب ہے کہ اسے عارضی طور پر روکا گیا ہے اور اس دوران عدالت حتمی فیصلہ جاری کرنے سے پہلے گاندھی کی اپیل پر تفصیل سے غور کرے گی۔

عدالت کے حکم کا مطلب یہ بھی ہے کہ گاندھی اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے سکیں گے اگر عدالت کا حتمی فیصلہ ان کے خلاف نہ آئے۔ ہتک عزت کے مقدمے میں وہ تبصرے شامل تھے جو گاندھی نے 2019 کی انتخابی تقریر میں کیے تھے۔ گاندھی نے پوچھا تھا، ’’تمام چوروں کا کنیت مودی ہی کیوں ہے؟‘‘ اس کے بعد انہوں نے تین معروف اور غیر متعلقہ مودیوں کا حوالہ دیا: ایک ہیروں کی تجارت کرنے والا مفرور بھارتی ٹائیکون، ایک کرکٹ ایگزیکٹو جس پر انڈین پریمیئر لیگ نے پابندی لگا دی تھی اور وزیرِاعظم۔

یہ مقدمہ پورنیش مودی نے دائر کیا تھا جو ریاست گجرات میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں لیکن ان کا تعلق وزیر اعظم سے نہیں ہے۔ گاندھی کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن عدالت نے اپریل میں ان کی جیل کی سزا معطل کر دی تھی۔ اس سزا کو گجرات کی ریاستی ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا اس لیے انہوں نے گزشتہ ماہ ملک کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

ہندوستان کے اولین وزیر اعظم اور خاندانی کانگریس پارٹی کے فرزند جواہر لعل نہرو کے پڑپوتے گاندھی کے خلاف مقدمے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ مودی کے مخالفین نے اس مقدمے کو جمہوریت اور آزادئ اظہار کے خلاف تازہ ترین حملہ قرار دیا جو اختلاف رائے کو کچلنے کی کوشش کرنے والی حکومت کی طرف سے کیاگیا۔ پارلیمنٹ سے ان کی تیزرفتار برطرفی نے ہندوستانی سیاست کو چونکا دیا۔

بھارت 1.4 بلین آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے لیکن مودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جمہوریت پسپائی کا شکار ہے۔ وہ ان کی حکومت پر ہندو قوم پرست ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ حکومت یہ کہہ کر اس الزام کی تردید کرتی ہے کہ اس کی پالیسیاں تمام ہندوستانیوں کے فائدے کے لیے ہیں۔ نہرو-گاندھی خاندان نے دو اور وزیر اعظم پیدا کیے ہیں۔ راہول گاندھی کی دادی اندرا گاندھی کو دفتر میں موجودگی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح ان کے والد راجیو گاندھی کو بھی دفتر سے نکلنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں