یوکرین بحران پرآزاد اورغیرجانبدارمؤقف برقرار رکھا جائے گا:چین کی روس کو یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لافروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ چین یوکرین جنگ پر "آزاد انہ اور غیر جانبدارانہ" مؤقف برقرار رکھے گا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزراء خارجہ نے یوکرین بحران کے علاوہ باہمی دل چسپی کے دیگر بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ ’’یوکرین بحران پر چین ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ مؤقف برقرار رکھے گا، ایک معروضی اور منطقی آواز اٹھائے گا، امن مذاکرات کو فعال طور پر فروغ دے گا اور کسی بھی بین الاقوامی کثیرالجہت موقع پر مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے کوشاں ہو گا‘‘۔

سرگئی لافروف نے اس کے جواب میں کہا کہ روس یوکرین کے بحران کے سیاسی حل کے بارے میں چین کے مؤقف سے مکمل طور پر متفق ہے۔ وہ اس سلسلے میں چین کے تعمیری کردار کو سراہتا ہے اور اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دونوں وزراء نے مختلف بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، جس میں یوکرین کے بحران کے ساتھ ساتھ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان دو طرفہ تعلقات بھی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یوکرین کے بحران سمیت متعدد ’گرم‘ علاقائی موضوعات پر بات چیت کی گئی‘‘۔تاہم اس بات چیت کی تفصیل کی وضاحت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں چین نے یوکرین بحران کے حل کے لیے ثالثی کا وعدہ کیا تھا اور "معروضی اور غیرجانبدارانہ مؤقف" پرعمل کرنے اور جنگ کے سیاسی تصفیے میں تعمیری کردار ادا کرنے کا عہد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں