برطانیہ نے پناہ کے متلاشیوں کو سمندر میں بحری جہاز میں رکھنا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی حکومت نے پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنے متنازع پروگرام پرعمل درآمد شروع کر دیا ہے، جس کے تحت وہ پناہ کے متلاشیوں کو سمندر میں اس وقت تک بحری جہازوں پر رکھا جائے گا جب تک ان کی پناہ کی درخواست منظور یا مسترد ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

لندن میں مقامی میڈیا نے پیر کی صبح بتایا کہ پناہ کے متلاشیوں کے پہلے گروپ کو پہلے ہی پورٹ لینڈ کے "بیبی سٹاک ہوم" سٹیمر میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی طرف سےتیارکی گئی ایک رپورٹ میں برطانیہ کے پناہ گزینوں کے حوالے سے تیار کردہ پروگرام پر روشنی ڈالی ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق پناہ کے متلاشیوں کی پہلی کھیپ جنہیں جہاز پر رہائش کے لیے منتقل کیا گیا ہے ان کی تعداد 50 تھی جب کی رواں ہفتے کے اختتام پر ان پناہ گزینوں کی تعداد 500 ہوجائے گی۔

جہاز کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا
جہاز کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا

برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے کہا ہے کہ نئی رہائش "ایک سنگین مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے گی"۔ گذشتہ ہفتے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ کچھ مختلف کرنے کی ایک مثال ہے جو پہلے نہیں کیا گیا تھا۔"

لیکن انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں اور کارکنوں نے جن میں پناہ گزینوں کی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف ریس ریلیشنز بھی شامل ہیں گذشتہ ماہ ایک کھلی اپیل پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ "ظالمانہ اور غیر انسانی" ہے۔

فائر فائٹرز یونین نے متنبہ کیا کہ زیادہ بھیڑ اور آگ سے باہر نکلنے تک رسائی کے خدشات "بیبی سٹاک ہوم بجر کو ممکنہ موت کا جال بنا دیں گے"۔

ان انتباہات کے باوجود امیگریشن کے وزیر رابرٹ جینرک نے یقین دہانی کرائی کہ یہ ایک "محفوظ سہولت" ہے اور کہا کہ وہ "آنے والے دنوں میں" اپنے عارضی رہائشیوں کا خیرمقدم کرے گا۔

یہ جہاز تین ہفتے قبل پورٹ لینڈ میں خراب ہوگیا تھا لیکن آج تک خالی پڑا ہے کیونکہ اس کی حفاظتی جانچ پڑتال جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں