عجیب و غریب واقعہ: مصری شخص کا اپنی بیوی پر مرد ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں ایک عجیب وغریب واقعے میں ایک نوجوان نے اپنی بیوی اور اس کے خاندان پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کی بیوی شادی کے بعد دراصل ایک مرد نکلا جو مردانہ اور نسائی دونوں خصوصیات رکھتا ہے۔

یہ خبر گذشتہ گھنٹوں کے دوران مصری میڈیا پر گردش کرتی رہی ، واقعہ ملک کے شمال میں بحیرہ گورنری میں پیش آیا۔

نوجوان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 2018 میں مطلوبہ "لڑکی" کا ہاتھ مانگا تھا، چنانچہ دو سال تک منگنی ہوئی، اور پھر شادی ہوگئی۔

آپ کو سرجری کی ضرورت ہے

شادی کے بعد جب اسے پتہ چلا کہ اس کے بیوی ایک مرد ہے تو اسے کافی بڑا دھچکا لگا۔

جب نوجوان نے بیوی کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو اسے بتایا گیا کہ اسے محض ایک سرجری کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد طبی ماہرین نے اسے بتایا کہ آپریشن صرف یہ ثابت کرنے کے لیے ہے کہ وہ ایک عورت ہے، لیکن طب اس پر نسوانی خصوصیات کو پوری طرح لاگو نہیں کر سکے گی۔

نوجوان نے خوشگوار طریقے سے علاحدگی کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے خاندان نے انکار کر دیا۔

نوجوان نے پھر روایتی پنچایت سے رابطہ کیا جہاں فیصلہ اس کے حق میں دیا گیا۔

تاہم بیوی کے گھر والوں نے اسے سامان واپس کرنے اور خاموشی سے الگ ہونے کو کہا۔

نوجوان کی بتائی گئی تفصیلات کے مطابق، اس کی بیوی کا 9 سال کی عمر تک مردوں والا نام تھا اور اس کے بعد اس پر زنانہ ہارمونز غالب آنے لگے تو خاندان نے کاغذات میں نام اور معلومات تبدیل کر دیں۔

بیوی کا ردعمل

دوسری جانب بیوی نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ بچپن میں مرد تھا، پھر اس نے تبدیلی کا طریقہ کار اختیار کیا، کیونکہ وہ پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، اور جب وہ 9 سال کی تھی تو اس کی جنس تبدیلی کی سرجری ہوئی۔

اس نے کہا کہ وہ ایک مکمل خاتون ہے اور شوہر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

طبی بنیادوں پر ثبوت فراہم کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ ایک بار حاملہ ہوئی تھی مگر شوہر کی شدید مار پیٹ کی وجہ سے اسقاط حمل ہوا۔

اس کا کہنا ہے شوہر اور اس کے خاندان خصوصاً اس کی والدہ نے اس کی ماں سے پیسے ہتھیانے کے لیے اسے بدنام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں