امریکی صدر کو دھمکی دینے والا شخص ایف بی آئی نے مار دیا

ایف بی آئی کے ایجنٹ ملزم کے گھر پر وارنٹ دے رہے تھے کہ اس دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر کو دھمکیاں دینے والے یوٹاہ کے شخص کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے صدر کے ریاست میں پہنچنے سے چند گھنٹے قبل گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ خصوصی ایجنٹ نے سالٹ لیک سٹی کے جنوب میں پروو میں کریگ ڈیلیو رابرٹسن کے گھر پر وارنٹ دے رہے تھے کہ اس دوران فائرنگ کا واقعہ صبح 6.15 بجے کے قریب پیش آیا۔

خیال رہے کہ بائیڈن بدھ کو یوٹاہ کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ رابرٹسن کے پڑوسیوں میں سے ایک کوپر رابنسن نے بتایا کہ وہ صبح 5.30 بجے کے قریب وہ اپنے کتے کو گھوما رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ پولیس کی پانچ یا چھ گاڑیاں رابرٹسن کے گھر کو گھیرے ہوئے ہیں۔

فائرنگ کے واقعہ کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے گھر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ [اے پی]
فائرنگ کے واقعہ کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے گھر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ [اے پی]

پڑوسی نے مزید بتایا کہ میں جہاں سے تھا وہاں سے زیادہ نہیں دیکھ سکتا تھا، میں صرف سُن سکتا تھا، انہوں نے اپنے مائیکروفون پر یہ کہتے ہوئے بات کرنا شروع کی کہ ’کریگ رابرٹسن، براہ کرم اپنے ہاتھ اوپر کرکے باہر آئیں۔ انہوں نے چند بار ایسا کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ، اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ اور نیویارک کے اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کے خلاف دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی عدالت میں امریکی شہری رابرٹسن کے خلاف دائر شکایت میں اس کی سوشل میڈیا پوسٹ کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ [اے پی]

مزید کہا کہ رابرٹسن نے پیر کو آن لائن پوسٹ کیا کہ اس نے سُنا ہے کہ بائیڈن یوٹاہ آرہے ہیں، تو اس نے صدر کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایک اور پوسٹ میں رابرٹسن نے خود کو ”MAGA Trumper“ کہا ہے، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نعرے سے متعلق ہے۔

تفتیش کاروں نے عدالتی ریکارڈ میں بتایا کہ پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک طویل فاصلے تک نشانہ بنانے والی اسنائپر رائفل اور متعدد دیگر ہتھیار اس کے پاس ہیں۔

ایک اور پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”خواب میں جو بائیڈن کی لاش ڈی سی پارکنگ گیراج کے ایک تاریک کونے میں دیکھی ہے جس کا سر کٹا ہوا ہے اور خون کے ایک بہت بڑے گڑھے میں پڑا ہے۔“

واضح رہے کہ عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ رابرٹسن پر منگل کو تین سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی بشمول صدر کے خلاف دھمکیاں دینا شامل ہے۔

ایک بیان میں ایف بی آئی کے یوٹاہ آفس کی ترجمان سینڈرا بارکر نے کہا کہ “ایف بی آئی شوٹنگ کے تمام واقعات کو سنجیدگی سے لیتا ہے، جن میں ہمارے ایجنٹ یا ٹاسک فورس کے ارکان شامل ہیں۔

مزید کہا کہ ایف بی آئی کی پالیسی کے مطابق شوٹنگ کا واقعہ ایف بی آئی کے انسپکشن ڈویژن کے زیر جائزہ ہے چونکہ یہ معاملہ ابھی تک جاری ہے، ہمارے پاس فراہم کرنے کے لیے مزید تفصیلات نہیں ہیں۔

بائیڈن مغربی امریکا کے دورے پر ہیں، انہوں نے بدھ کو اپنا وقت نیو میکسیکو میں گزارا پھر وہ دن کے آخر میں یوٹاہ کے لیے پرواز کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں