سعودی اسرائیل تعلقات کے لیے کسی فریم ورک پر اتفاق نہیں ہوا، بات چیت جاری ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور اس کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک کال کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ "ابھی بھی یہاں بہت سے امور پر بات چیت باقی ہے۔"

وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بدھ کے روز خبر دی ہے کہ واشنگٹن اور ریاض نے سعودی عرب کے لیے سکیورٹی امداد، فلسطینیوں کو رعایتیں اور سعودی عرب کے سویلین نیوکلیئر عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی مدد کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے کے خاکے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر، جان کربی نے کہا کہ: "میرے خیال میں... دو ٹوک بات یہ ہے کہ، خبر نے کچھ لوگوں کو یہ تاثر دیا ہے کہ بات چیت اصل صورت حال سے کہیں زیادہ آگے بڑھ رہی ہے اور حتمی مرحلے کے قریب ہے۔"

"یہاں... تعلقات معمول پر لانے کے لیے یا خطے میں ہمارے اور ہمارے دوستوں کے دیگر سکیورٹی تحفظات پر کسی فریم ورک پر اتفاق نہیں کیا گیا ہے۔" انہوں نے کہا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے حالیہ خلیجی رجحان کے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کو بھی اس پر آمادہ کیا جائے۔ مگر امریکی کوششوں کے باوجود، سعودی عرب نے دیگر مسائل کے حل کے علاوہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، اورتنازعے کو عرب امن اقدام کے مطابق حل کیا جانے پر زور دیا ہے۔

اسرائیل نے کھل کر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت ہو سکتی ہے لیکن موجودہ سخت گیر مذہبی اتحاد اور نیتن یاہو حکومت نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو اس طرح کے معاہدے پر پیش رفت کرنے سے پیشتر کئی حوصلہ شکن اقدامات کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں