سعودی عرب میں یوکرین مذاکرات کیف کے لیے ایک پیش رفت ہیں: یوکرینی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں سعودی میزبانی میں ہونے والی بات چیت کیف کے لیے ایک "پیش رفت" تھی جس نے ظاہر کیا کہ روس کی جنگ کے خاتمے کے لیے صدر زیلنسکی کے تجویز کردہ 10 نکاتی منصوبے کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا ممکن ہے۔

یوکرینی وزیر خارجہ دمیٹرو کولیبا نے رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں جدہ میں ہونے والے مذاکرات اور موسم گرما کے شروع میں کوپن ہیگن میں ہونے والی ایک چھوٹی تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک عالمی سیاست میں سب سے آگے رہنا چاہتا ہے تو اسے ان کوآرڈینیشن میٹنگز کا حصہ بننا ہوگا۔

چین، بھارت، برازیل، امریکہ اور یورپی ممالک سمیت 40 سے زیادہ ملکوں کے حکام نے ان مذاکرات میں حصہ لیا لیکن روس نے نہیں لیا۔ ان مذاکرات کو کیف کی طرف سے اپنی حمایت کے لیے طاقتوں کا ایک وسیع اتحاد بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

یوکرین کو مغرب کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے کیونکہ اس نے روس کے حملے کو روکا ہے لیکن اس کے لیے عالمی جنوبی معیشتوں پر فتح حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

زیلنسکی کے منصوبے، جسے کیف فروری 2022 میں شروع کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے امن کی بنیاد کے طور پر رو بہ عمل کرنا چاہتا ہے، میں تمام روسی فوجیوں کا انخلا اور یوکرین کے تمام علاقوں کو اس کے کنٹرول میں واپس کرنا شامل ہے۔

کولیبا نے کہا کہ جدہ اجتماع جیسی اجلاسوں میں شرکت کرنے میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کی تعداد میں حالیہ ہفتوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعات یوکرین کے امن کے وژن پر مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

روس نے کہا ہے کہ وہ کیف کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یوکرین کے چار صوبوں پر اپنے دعوے پر اصرار کرتا ہے۔ روس نے گزشتہ برس ان صوبوں کا الحاق کرلیا تھا جسے کیف قبول نہیں کرتا۔

کولیبا نے تسلیم کیا کہ افریقہ جیسی جگہوں پر روسی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ یوکرین اپنے حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں