نارویجن کوہ پیما کی کے ٹو پر زخمی پورٹر کو نظر انداز کرنے کے دعووں کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عالمی ریکارڈ توڑنے والی نارویجن کوہ پیما نے ان دعووں کو "غلط معلومات اور نفرت" پر مبنی قرار دیا ہے کہ وہ اور اس کی ٹیم کے ٹو پر ایک زخمی پورٹر کو چھوڑ کر چوٹی سر کرنے کے لیے پہنچے تھے، جن کی بعد میں موت واقع ہوگئی۔

کرسٹین اور کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس وقت کے ٹو بوٹل نیک پر موجود تھے جب حسن کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا۔

پچھلے مہینے 27 جولائی کو، کرسٹین اور نیپالی ٹینجن شیرپا نے دنیا کے 8,000 میٹر (26,000 فٹ) پہاڑوں میں سے تمام 14 چوٹیوں کو سر کرنے کا تیزرفتار ریکارڈ توڑا۔

انہوں نے یہ کارنامہ 3 ماہ اور ایک دن میں مکمل کیا، کے ٹو جو ان کی مہم کی آخری چوٹی تھی اور اسے ماؤنٹ ایورسٹ سے زیادہ تکنیکی طور پر مشکل چوٹی سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ان کی کامیابی چونکا دینے والے انکشافات کے سامنے ماند پڑ گئی کہ درجنوں کوہ پیما ایک پاکستانی پورٹر کے پاس سے گزرے جب وہ رسی سے بندھے الٹے لٹکے ہوئے موت اور حیات کی کشمکش میں تھے۔

کئی دنوں سے جاری یہ تنازعہ ایک ڈرون کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ویڈیو سے پیدا ہوا جسے دوسرے کوہ پیماؤں نے شائع کیا تھا۔ اس فوٹیج میں کرسٹین اور اس کی ٹیم کو محمد حسن کے پاس سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا۔

فوٹیج میں وہ واضح طور پر موت سے لڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔جب کہ نارویجن کوہ پیما نے چوٹی تک پہنچنے کا سفر جاری رکھا۔

یہ فوٹیج کے ٹو کے بوٹل نیک پر ریکارڈ کی گئی تھی، جو چوٹی سے صرف 400 میٹر کے فاصلے پر برفانی تودوں سے گھری ایک انتہائی تنگ اور خطرناک راہداری ہے۔

کوہ پیما کلب کے سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق اس دن تقریباً 100 کوہ پیما کےٹو کی چوٹی پر پہنچے تھے۔

ایک صارف نے انسٹاگرام پر لکھا: ’’کوئی بھی آپ کی ایتھلیٹک کامیابی کو یاد نہیں رکھے گا، وہ آپ کی غیرانسانی حرکت کو یاد رکھیں گے۔‘‘

ایک اور نے ہریلا کو یہ کہہ کر مخاطب کیا، "آپ کے ہاتھوں پر شیرپا (پہاڑی گائیڈ) کا خون ہے"

کرسٹین ہریلا کو بیس کیمپ میں واپس آنے کے بعد چوٹی سر کرنے کا جشن منانے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

37 سالہ کوہ پیما نے انسٹاگرام پر اپنے دفاع میں لکھا کہ"میں نے ان (محمد حسن) کے لیے سب کچھ کیا۔"

انہوں نے حادثے کے بعد سے ملنے والی "جان سے مارنے کی دھمکیوں" پر افسوس اور مذمت کا اظہار بھی کیا۔

کوہ پیما کے مطابق وہ ، ان کے فوٹوگرافر گیبریل، اور دو دیگر لوگوں نے حسن کے ساتھ "ڈیڑھ گھنٹہ" گزارا تھا۔

شیرپا کی ٹیم کس مقام پر تھی اس کا تعین نہیں کیا جا سکا لیکن نارویجن کوہ پیما نے کہا کہ بہت سے کوہ پیما ان کے "پیچھے" تھے۔

کوہ پیما نے اپنی ٹیم کی طرف سے بھیجے گئے برفانی تودے کی وارننگ کے بعد اپنا سفر جاری رکھا۔

تاہم، ان کا فوٹوگرافر گیبریل، حسن کے ساتھ رہا، جو انہیں آکسیجن اور گرم پانی دیتے رہے۔

ایک گھنٹے کے بعد، کیمرہ مین نے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے "اپنی حفاظت کے لیے مزید آکسیجن" کی ضرورت تھی۔

جب وہ نیچے آئے تو دیکھا کہ 27 سالہ محمد حسن کی موت ہوچکی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم، جو چار افراد پر مشتمل تھی، بحفاظت "لاش کو نیچے نہیں لا سکی"، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے کم از کم چھ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

کرسٹین کے مطابق، متوفی حسن مناسب لباس اور ضروری سامان سے لیس نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی موت واقعی افسوسناک تھی... اور میں خاندان کے لیے بہت درد محسوس کرتی ہوں، لیکن "ہم نے اپنی پوری کوشش کی، خاص طور پر گیبریل نے۔"

کوہ پیمائی کے اجازت نامے جاری کرنے والے صوبہ گلگت بلتستان کے سیاحتی حکام نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے موت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

کئی صارفین نے ہریلا کا دفاع کیا، اور کہا کہ کوہ پیماؤں کو اسی طرح کی چڑھائیوں پر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

بعض نے سوال کیا کہ شیرپا مناسب سامان سے لیس کیوں نہیں تھے۔

ایک مقامی نے مغربی کوہ پیماؤں اور شیرپاوں کے درمیان غیر مساوی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "مقامی لوگوں کی جانیں اتنی سستی کیوں ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں