امریکا کی قیادت میں بحریہ گروپ کی تجارتی جہازوں کو ایرانی پانیوں سے گریز کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج میں امریکا کی قیادت میں بحری اتحاد نے خطے میں موجود بحری جہازوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ممکنہ قبضے سے بچنے کے لیے ایرانی پانیوں سے دور رہیں۔

اس انتباہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اور اس کے آس پاس کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایران نے اپریل کے آخر اور مئی کے اوائل میں ٹینکروں کو قبضے میں لیا تھا،جبکہ واشنگٹن اور تہران نے ایران میں حراست میں لیے گئے پانچ امریکی شہریوں کو رہا کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے اور امریکا نے جنوبی کوریا میں پڑے 6 ارب ڈالر کے ایرانی فنڈز کو غیرمنجمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹموتھی ہاکنز نے ہفتے کی رات دیر گئے کہا:’’انٹرنیشنل میری ٹائم سکیورٹی کنسٹرکٹ علاقائی بحری جہازوں کو موجودہ علاقائی کشیدگی کی بنیاد پر قبضے کے خطرے کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے اور وہ مناسب احتیاطی تدابیر سے آگاہ کر رہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’تجارتی بحری جہازوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی سمندری حدود سے زیادہ سے زیادہ دور رہیں‘‘۔

دنیا کا خام تیل اور تیل کی مصنوعات کا قریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے ہوکر گزرتا ہے، جو خلیج کے دہانے پر ایران اور عُمان کے درمیان ایک اہم آبی گذرگاہ ہے۔

ایرانی جیلوں سے امریکی شہریوں کی رہائی اور انھیں امریکا واپس جانے کی اجازت دینے کے معاہدے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک بڑی کشیدگی دور ہوجائے گی، جو ایرانی جوہری پروگرام سے لے کر علاقائی شیعہ ملیشیا کی تہران کی حمایت تک کے معاملات پر اختلافات کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکا کچھ ایرانیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں