بحیرہ اسود میں روسی جنگی جہاز کی مال بردار جہاز کی جانب انتباہی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے ایک جنگی جہاز نے اتوار کے روز بحیرہ اسود کے جنوب مغرب میں ایک مال بردار جہاز پر انتباہی فائرنگ کی ہے۔یہ مال بردار جہاز شمال کی جانب بڑھ رہا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے جب روس نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ تاریخی اناج معاہدے سے نکلنے کے بعد یوکرین سے باہر کسی تجارتی جہازپر فائرنگ کی ہے۔

روس نے جولائی میں بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل کے معاہدے میں شرکت روک دی تھی ۔اس معاہدے کے تحت یوکرین کو بحیرہ اسود کے راستے اپنی زرعی اجناس برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور ماسکو نے خبردارکیا تھا کہ وہ یوکرین کے پانیوں کی طرف جانے والے تمام بحری جہازوں کو ممکنہ طور پر اسلحہ بردار خیال کرے گا۔

روس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے واسیلی بائیکوف گشتی جہاز نے پالاؤ کے جھنڈے والے سکرو عکان جہاز پر خودکار ہتھیار داغے ہیں کیونکہ جہاز کے کپتان معائنے کے لیے رکنے کی درخواست کا جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔

روس کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز یوکرین کی بندرگاہ ازمیل کی جانب بڑھ رہا تھا۔جہازرانی اعداد و شمار سے پتاچلتا ہے کہ جہاز فی الحال بلغاریہ کے ساحل کے قریب تھا اور رومانیہ کی بندرگاہ سلینا کی طرف بڑھ رہا تھا۔

روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جہاز کو زبردستی روکنے کے لیے خودکار ہتھیاروں سے انتباہی فائر کیا گیا۔روسی فوجی کے اے 29 ہیلی کاپٹر کی مدد سے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انسپکشن گروپ نے جہاز پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور اس کے بعد سکرو عکان ازمیل کی بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔

دوسری طرف ترکیہ کی وزارت دفاع کے ایک عہدہ دار نے کہا کہ انھیں رومانیہ جانے والے ایک بحری جہاز کے ساتھ ایک واقعہ پیش آنے کی اطلاع ملی ہے اور انقرہ اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔یوکرین نے فوری طور پر اس واقعہ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں