چیلنجز کے باوجود امریکہ عراق کیساتھ سکیورٹی پارٹنرشپ کیلئے پرامید

امید ہے عراق امریکی عرب تعاون کے ڈھانچے کا حصہ بن جائے گا: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں مشترک سکیورٹی تعاون کے متعلق پہلا عراقی امریکی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں بظاہر نعروں کا تکرار کیا گیا تاہم حقیقت یہ عراق امریکہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے۔

20 برس قبل امریکہ اور عراقی تعلقات اس نوعیت کے تھے ایک ملک نے دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پھر بغاوت کا سامنا کیا۔ پھر ایک معاہدے کے مطابق وہاں سے نکل کر داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے واپس آ گیا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ امریکی صرف آخری مشن میں عراقی حکومت کی مدد کے لیے کام کریں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ داعش کے خلاف مشن ختم ہو جائے گا۔ اس لیے دونوں فریقوں نے بات چیت شروع کر دی کہ اس مشن کے بعد کیا ہو گا۔

360 ڈگری

پینٹاگون کی عمارت میں ہونے والی بات چیت کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں "360 ڈگری جامع شراکت داری" کے متعلق بات کی گئی۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے ان مذاکرات کے بعد صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ اگلے مجوزہ تعلقات میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی فوجی مشقیں، معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ، امریکی ساختہ ہتھیاروں کی فروخت اور عراقیوں کو اس حالت کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا اور سرحدی تحفظ شامل ہوسکتے ہیں۔

مجوزہ امریکی تجاویز کے ساتھ ساتھ بہت سے چیلنجز بھی ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے اہم یہ ہے کہ عراقی افواج امریکی فوج جیسی فوج ہوں گی۔ دو طرفہ یا کثیر جہتی مشقوں میں شامل ہونے کا مطلب ہے کہ دونوں فوجوں کے عناصر ایک ہی زبان بولیں گے۔ جہاں تک معلومات کے تبادلے کا تعلق ہے خاص طور پر انٹیلی جنس معلومات کا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق دہشت گردی سے نمٹنے کے مرحلے کے بعد دو دوست فوجیں بن کر کام کریں گے اور خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے اور ہر فریق کو یقین ہے کہ دوسرا فریق اس کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ ساتھ یہ بھی ہوگا کہ کسی تیسرے فریق کو معلومات لیک نہیں کی جائیں گی۔

عراقی تبدیلی

امریکی اب دیکھ رہے ہیں کہ عراقی افواج انسداد دہشت گردی کے معاملات میں اچھی صلاحیت کی حامل افواج ہیں۔ دونوں فریقوں کے لیے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اس عراقی فوجی قوت کو ایک ایسی فوج میں تبدیل کریں جو امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے اہداف کے حصول کے لیے کام کرے۔ امریکی عہدیدار نے کہا امید ہے عراق امریکی عرب تعاون کے ڈھانچے کا حصہ بن جائے گا تاکہ فضائی حدود، زمینی اور آبی علاقوں کو کسی بھی جارحیت سے بچایا جا سکے۔ خواہ یہ جارحیت ریاست کی طرف سے ہو یا دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے ہو۔

موجودہ صدر جو بائیڈن 2022 میں جدہ گئے تو خلیج تعاون کونسل کے ممالک موجود تھے۔ اردن اور مصر کیساتھ عراق بھی موجود تھا لیکن بیرونی اور اندرونی دباؤ کے تحت عراق کو ایک مختلف زمرے میں ڈالنے کا سامنا ہے۔

درپیش چیلنجز

عراق کی ایران کے ساتھ لمبی سرحدیں ہیں اور ایرانی پاسداران انقلاب کا شیعہ ملیشیا پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ ایران شام میں داخل ہونے کے لیے عراقی سرزمین اور فضائی حدود استعمال کرتا ہے۔ عراق کردستان کے علاقے کے ساتھ وفاقیت کے اصول کی بنا پر رہتاہے۔ وہ کردستان کی قیادت اور امریکیوں کے ساتھ الگ الگ رابطے رکھتا ہے۔ ترکیہ کرد مخالفین کا مقابلہ کرنے کے بہانے عراقی سرحدوں کے اندر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

امریکیوں کے پاس تمام سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ عراقیوں کے پاس امریکیوں کو پیش کرنے کے لیے حتمی وعدے نہیں ہیں لیکن عراق کا اپنی مسلح افواج میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا کنٹرول امریکیوں کے ساتھ تعاون کے لیے وسیع دروازے کھول دے گا۔

ایک ساتھ روٹی کھائیں

اب پینٹاگون کے حکام دیکھ رہے ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عراق امریکی فوجیوں کو عراق میں رہنے کے لیے کہہ رہا ہے اور ایک طویل مدتی اور کثیر جہتی تعلقات استوار کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔

امریکیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ راستہ طویل ہے اور ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہم ایک ساتھ روٹی کھائیں۔ یہ ایک مغربی اظہار کے مساوی بات ہے کہ ایک ساتھ نمک کھائیں یا ہمارے پاس روٹی اور نمک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں