یوکرین نےروس کی بحری جہاز پرفائرنگ کو عالمی قوانین کے منافی اورجُرم قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین نے اتوار کے روز روس کے جنگی جہاز کی بحیرہ اسود میں ایک مال بردار تجارتی جہاز پر انتباہی فائرنگ کی کی مذمت کی ہے۔اس جہاز نے مبینہ طور پر روسی مطالبے پر رُکنے سے انکار کر دیا تھا۔ کیف نے کہا کہ ماسکو کی یہ کارروائی "سمندر کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی"، "قزاقی" اور "جرم"ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی بحری جہاز واسیلی بائیکوف نے پلاؤ کے جھنڈے والے خشک مال بردار جہاز سکروعکان کو معائنے کے لیے یوکرین کی بندرگاہ ازمیل جانے سے زبردستی روک لیا۔

ماسکو کے وقت کے مطابق 13 اگست کو صبح قریباً 6 بج کر 40 منٹ پر بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کے گشتی جہاز ویسیلی بائیکوف نے بحیرہ اسود کے جنوب مغربی حصے میں یوکرین کی بندرگاہ ازمیل کی طرف جانے والے پلاؤ کے خشک مال بردار جہاز سکروعکان کا سراغ لگایا۔ ڈرائی کارگو جہاز کے کپتان نے ممنوعہ سامان کی ممکنہ نقل و حمل کے معائنے کے لیے رکنے کے مطالبے کاجواب نہیں دیا۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی جنگی جہاز نے اس مال بردار جہاز کو زبردستی روکنے کے لیے خودکار طریقے سے چھوٹے ہتھیاروں سے انتباہی گولیاں چلائی تھیں۔

روسی فوجیوں کے ایک گروپ نے ایک کے اے -29 ہیلی کاپٹر پرڈرائی کارگو جہاز کا معائنہ کرنے کے لیے گشتی جہاز ویسیلی بائیکوف سے اڑان بھری تھی۔وزارت نے کہا کہ ریڈیو بات چیت کے نتائج کے بعد ، جہاز رک گیا اور معائنہ ٹیم خشک کارگو جہاز پر اتر گئی۔

اس میں مزید کہا گیا ہے: "معائنہ گروپ نے سکرو عکان پر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد ، جہاز نے ازمیل کی بندرگاہ کی طرف سفر جاری رکھا۔ بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کے جہاز مقررہ علاقوں میں گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جولائی میں روس نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بحیرہ اسود پر یوکرین کی بندرگاہوں کی طرف سفر کرنے والے تمام بحری جہازوں کو "ممکنہ فوجی کارگو کیریئر" خیال کرے گا۔ اس نے بحیرہ اسود کے بین الاقوامی پانیوں کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی حصوں کے متعدد علاقوں کو "جہاز رانی کے لیے عارضی طور پر خطرناک" قرار دیا اور مزید کہا کہ یوکرین کی بندرگاہوں کی جانب سفر کرنے والے بحری جہازوں کے مالک ممالک کیف کی طرف سے تنازع کے فریق سمجھے جائیں گے۔

کیف نے ماسکو کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور صدر ولودیمیر زیلنسکی کے اعلیٰ مشیر میخیلو پوڈولیاک نے پلاؤ کے جھنڈے والے سویلین مال بردار جہاز کو روکنے کے لیے روس کی کارروائی کی مذمت کی۔

پوڈولیاک نے کہا: "آج روس کی طرف سے یوکرین کی بندرگاہ ازمیل کی طرف جانے والے سکرو عکان بین الاقوامی سویلین جہاز پر جان بوجھ کر حملہ اور جبری معائنہ سمندر کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی، قزاقی کی کارروائی اور دیگر ریاستوں کے پانیوں میں کسی تیسرے ملک کے شہری مال بردار جہازوں کے خلاف جرم ہے‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین تمام ضروری نتائج اخذ کرے گا اور بہترین ممکنہ جواب کا انتخاب کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں