ایران میں شیعہ مزار پر فائرنگ کی پاداش میں مزید چار افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکام نے شیعہ مزار پر فائرنگ کرکے کم از کم ایک شخص کو قتل کرنے والے مسلح شخص کو حراست میں لینے کے بعد مزید چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق گرفتاری سے متعلق خبر سرکاری میڈیا نے آج رپورٹ کی۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ شاہ چراغ مزار پر حملہ دو مسلح افراد نے کیا، حملہ آوروں میں سے ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دوسرا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

13 اگست 2023 کو صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں ایران کے شاہ چراغ کے مزار پر فائرنگ کے حملے کے بعد ایمرجنسی اہلکار زخمیوں کو منتقل کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
13 اگست 2023 کو صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں ایران کے شاہ چراغ کے مزار پر فائرنگ کے حملے کے بعد ایمرجنسی اہلکار زخمیوں کو منتقل کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

شاہ چراغ کے مزار میں آٹھویں شیعہ امام، امام رضا کے بھائی احمد مزار بھی واقع ہے، اسے جنوبی ایران کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ایک مسلح شخص نے اسی مزار کو نشانہ بنایا تھا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ داعش نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جولائی میں ایران نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس بم حملے کے جُرم میں دو افراد کو سرعام پھانسی دے دی تھی۔

13 اگست 2023 کو صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں ایران کے شاہ چراغ کے مزار پر فائرنگ کے حملے کے مقام پر خون کے دھبے (اے ایف پی)
13 اگست 2023 کو صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں ایران کے شاہ چراغ کے مزار پر فائرنگ کے حملے کے مقام پر خون کے دھبے (اے ایف پی)

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے فارس کے صوبائی چیف جسٹس کاظم موسوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملے سے تعلق کے الزام میں اب تک چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان چار مشتبہ افراد کی گرفتاری اس مسلح شخص کے علاوہ ہے جس کی گرفتاری کا اعلان اتوار کی رات کمانڈر اسلامی انقلابی گارڈز کور فارس یداللہ بوعلی نے کیا تھا جو سرکاری ٹی وی پر بات کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں