دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی،مکینوں کا سستے مضافات کی جانب منتقلی کا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی نے اہم علاقوں میں لگژری ترقی کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے اور اب مکانوں کی قیمتوں اور کرایوں میں اضافے کا رجحان مضافات کا بھی رُخ کررہا ہے۔

اس شہر کے سب سے مشہور محلے خلیج عرب کے ساحل کے متوازی چلتے ہیں، اب مشرق کی طرف صحرا تک پھیلے ہوئے اضلاع میں گھروں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کا جائزہ لینے والی تحقیقی فرم ویلیواسٹریٹ کے مطابق واحہ دبئی سلیکیون اور اسپورٹس سٹی جیسے ثانوی مقامات کے کچھ علاقوں میں پراپرٹی کا لین دین ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔

دبئی میں قائم اس فرم کے ڈائریکٹر اور رئیل اسٹیٹ ریسرچ کے سربراہ حیدرتوئیمہ کا کہنا ہے کہ ’’کفایت شعاری اس کی بنیادی وجہ ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔سرمایہ کار اب کم جگہ کے لیے تین سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کر رہے ہیں‘‘۔

دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی بحالی سات سال کے مندے کے بعد دیکھا جارہی ہے اور اس میں نئے آنے والوں کی آمد کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔کرپٹو کروڑ پتیوں اور بینکاروں سے لے کر ایشیا سے نقل مکانی کرنے والے اورامیر روسیوں تک اثاثوں کو بچاکر دبئی میں سرمایہ کاری میں کھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کی بحالی جولائی تک جاری رہی جب اپارٹمنٹس نے ایک سال پہلے کے مقابلے میں قدروں میں اوسطاً 9 فی صد اضافہ دیکھا اور ریکارڈ پر سب سے بڑا اضافہ ہے۔دبئی میں اپارٹمنٹس شہر کی ہاؤسنگ سپلائی کا قریباً 85 فی صد ہیں۔

اوسطاً گذشتہ ماہ کے مقابلے میں گھروں کی قیمتوں میں دو فی صد اضافہ ہوا۔ ویلیو اسٹریٹ کے مطابق، سنگل فیملی والے گھروں میں منافع، جسے مقامی طور پر ولا کے نام سے جانا جاتا ہے، اس اضافے سے کہیں زیادہ ہے، حالانکہ اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں مجموعی اضافے نے ثانوی مقامات پرقیمتوں کو بڑھانے میں مدد کی۔

سستی جگہیں

دبئی مارکیٹ کی بحالی کی طاقت دنیا بھر کی مارکیٹوں کے بالکل برعکس ہے جہاں اعلیٰ شرح سود لین دین کو کم کر رہی ہے۔ ویلیو اسٹریٹ کے توئیمہ نے کہا کہ امارات میں زیادہ تر لین دین نقد خریداروں پر مشتمل ہے، جس سے مارکیٹ خریدکرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے باوجود، بحالی اب تک ناہموار رہی ہے۔مثال کے طور پر، جبکہ ریمرام ضلع میں اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں 1.7 فی صد اضافہ نے سالانہ منافع کو 2.9 فیصد تک پہنچا دیا ہے لیکن یہ منافع انسانی ساختہ جزیرے پام جمیرہ میں اپارٹمنٹس کے سالانہ 17.9 فی صد اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔

توئیمہ نے کہا کہ آخری سہ ماہی تک، کچھ علاقوں میں جائیداد کی قدر یا کرایوں میں معمولی یا کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے، جس کی جزوی وجہ اضافی سپلائی تھی، خاص طور پر اپارٹمنٹس کے لیے لیکن اب یہ رجحان تبدیل ہو رہا ہے اور رہائشی زیادہ سستے مقامات کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’اگرچہ رسد میں اضافہ جاری رہے گا، ہم نے گذشتہ چند مہینوں میں زیادہ سستے علاقوں میں طلب میں تبدیلی ملاحظہ کی ہے اور بہت سے لوگوں نے کم سائز کا انتخاب کیا ہے۔ ویلیو اسٹریٹ کا اندازہ ہے کہ دبئی اگلے تین سال میں قریباً ایک لاکھ گھروں کا اضافہ کرے گا‘‘۔

دریں اثنا، کرایوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔اوسطاً جولائی تک رہائشی کرایوں میں 22 فی صد اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ ماہ 22.8 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ رئیل اسٹیٹ ایڈوائزر سی بی آر ای گروپ انکارپوریٹڈ نے کہا کہ اس طرح ایک خاندان کے گھر کے لیے اوسط سالانہ اعداد و شمار 319،994 درہم (87،120 ڈالر) اور اپارٹمنٹ کے لیے 105،691 درہم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں