امارات کی سوڈان میں تنازع کے فریقین کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے اس بات کی تردید کردی ہے کہ اس نے سوڈان میں فوج اور ریپیڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد کسی بھی سوڈانی فریق کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا ہے۔

اماراتی وزارت خارجہ نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ وہ تنازع کے کسی بھی فریق کو مدد فراہم کرنے کے بارے میں میڈیا میں آنے والی خبروں کی تردید کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای سوڈان میں جاری لڑائی میں کسی فریق کو سپورٹ نہیں کر رہا اور لڑائی کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

امارات دونوں فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ سوڈان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ میں کمیونیکیشن کی ڈائریکٹر عفراء الھاملی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امارات نے ہمیشہ سیاسی عمل اور سوڈانی حکومت کی تشکیل کے لیے قومی اتفاق رائے کے حصول کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

عفراء نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات جنگ بندی تک پہنچنے تک سوڈان میں سلامتی کے حصول اور اس کے استحکام اور خوشحالی کو بڑھانے کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

خیال رہے سوڈان میں 15 اپریل کو فوج اور سریح الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔ یہ لڑائی ریپڈ سپورٹ فورسز کو فوج میں ضم کرنے کے منصوبے پر اختلاف کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ 2019 میں ایک عوامی بغاوت میں سابق صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد سویلین حکمرانی میں منتقلی کے عمل کے دوران فوجی اور سویلین جماعتیں بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ سیاسی جماعتوں کو حتمی شکل دے رہی تھیں۔ اس لڑائی نے اب تک تقریباً چالیس لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ تنازع کو پرسکون کرنے کی کئی علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں