مراکش:اسپورٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ پربچےکوہراساں کرنےکاالزام،واقعےکی عدالتی تحقیقات

عوامی حلقوں میں بچے کو ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف شدید رد عمل، ملزم کو کیفر کردارتک پہنچانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں ایک اسپورٹس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر کے خلاف ایک بچے کو مبینہ طورپر ہراساں کرنے کے واقعےکی عدالتی سطح پر تحقیقات شروع ہوگئی ہیں۔

یہ تحقیقات سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے بعد شروع کی گئی ہین جس میں بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع شہر الجدیدہ میں ایک سمر کیمپ میں حصہ لینے والے نابالغ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے مراکش میں عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

حکام کا یہ اقدام سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کے پھیلنے کے بعد سامنے آیا جس کے دوران ملزم دوسرے بچوں کی موجودگی میں الجدیدہ شہر کے ساحل پر چھٹیاں گذارنے والوں کی نظروں کے سامنے ایک بچے کو جنسی طور پر بلیک کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کےبعد بچے کے اہل خانہ نے متعلقہ سرکاری حکام کو شکایت کی جس میں بتایا گیا ہےکہ ایسوسی ایشن کے سربراہ نے ان کے نو سالہ بچے کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

الجدیدہ شہر میں جوڈیشل پولیس کے علاقائی دفترنے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے پبلک پراسیکیوشن کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ یہ کہ مشتبہ شخص کھیلوں کی ایسوسی ایشن چلا رہا ہے۔اسے حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور دیگر مواد کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں نابالغوں کی عصمت دری کے واقعات میں اضافے کے بعد اس واقعے نے ایک بار پھر عوام کو مشتعل کردیا ہے۔ عوامی حلقوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب درندہ صفت شخص کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مراکش کے فوجداری قانون میں کہا گیا ہے کہ ہر مرد یا عورت بچے کے خلاف ناشائستہ حملہ، یا ناشائستہ حملے کی کوشش قابل سزا جرم ہے اور اس جرم کی سزا دو سے پانچ سال قید اور جرجرمانہ ہے۔ 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کے ریپ پر قید کی سزا دس سے بیس سال تک قید مقرر کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں