نیجر کی فوجی جنتا کا صدر بازوم کے خلاف 'سنگین غداری' کا مقدمہ چلانے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صدر بازوم کی حکومت کا تختہ الٹنے والے نیجر کے باغی رہنماؤں نے اتوار کو دیر گئے کہا کہ وہ معزول صدر کے خلاف "سنگین غداری" اور ملک کی "سلامتی کو نقصان پہنچانے" کے الزام میں "مقدمہ" چلائیں گے۔

قومی ٹیلی ویژن پر کرنل میجر عمادو عبدرمانے نے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا۔ "حکومت نے کہا کہ اس نے شواہد جمع کر لیے ہیں جنہیں وہ "معزول صدر اور ان کے مقامی اور غیر ملکی ساتھیوں کے خلاف سنگین غداری اور نیجر کی اندرونی و بیرونی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف مجاز قومی اور بین الاقوامی اداروں کے سامنے مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کرے گی"۔

بغاوت کے دن سے بازوم کو ان کے بیٹے اور اہلیہ کے ساتھ ان کی صدارتی رہائش گاہ میں نظربند رکھا گیا ہے۔

فوجی رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے بازوم کی رہائش گاہ پر قبضہ نہیں کیا ہے اور وہ اب بھی بیرونی دنیا کے ساتھ ابلاغ اور تعلق کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بازوم کے ڈاکٹر ان سے باقاعدگی سے ملتے تھے۔

معزول صدر کے ایک مشیر کے مطابق ہفتے کے روز ایک مشاورت ہوئی۔

فوج نے مزید کہا، "اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر نے معزول صدر اور ان کے خاندان کے افراد کی صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ بیان نہیں کیا۔"

معزول رہنما نے کہا ہے کہ انہیں بجلی کے بغیر "یرغمال" بنا کر رکھا گیا تھا اور ان کے پاس کھانے کے لیے صرف چاول اور پاستا تھا۔

مغربی افریقی علاقائی بلاک یعنی ای سی او ڈبلیو اے ایس کی طرف سے عائد کردہ "غیر قانونی، غیر انسانی اور ذلت آمیز پابندیوں" کو بھی جنرلوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس سے نیجر کے ساتھ بیرونی دنیا کا مالی اور تجارتی لین دین معطل ہو گیا ہے۔

نیجر کی حکومت نے کہا کہ پابندیاں ملک کو ادویات، خوراک اور بجلی سے محروم کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں