ہمارے پاس منجمد فنڈز کے حوالے سے امریکا کی طرف سے کافی ضمانتیں ہیں:تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں کی تنقید کےجلو میں ایران کے ساتھ منجمد فنڈز پر پابندی ہٹانے کے بدلے میں 5 امریکیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کے بعد تہران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنے فنڈز کی بازیابی کے لیے امریکی ضمانتوں کی درخواست کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے آج پیرکے روز کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ وہاں زیر حراست ایرانیوں کی رہائی اور منجمد اثاثوں کی بازیابی کے حوالے سے مفاہمت پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران "امریکیوں کے ساتھ واشنگٹن میں زیر حراست ایرانیوں کی رہائی اور ایک مقررہ مدت کے اندر منجمد اثاثوں کی واگزاری کے حوالے سے ایک مفاہمت پر پہنچ گیا ہے۔"

کافی ضمانتیں

انہوں نے بیان جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم نے امریکا سے کافی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے جائیں گے۔" تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ فنڈز کی فراہمی کب ہوگی۔

ان منجمد فنڈز کو جنوبی کوریا میں منتقل کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران جنوبی کوریا کی کرنسی میں منجمد اثاثوں تک رسائی نہیں چاہتا، جو یورو یا امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم کنورٹیبل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کرنسی کی تبدیلی کے عمل میں شامل ہے۔ اسے تشویش ہے کہ ایک وقت میں 6 ارب ڈالر کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرنے سے شرح مبادلہ اور معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔

اس کے علاوہ رقوم کی منتقلی کے ساتھ آپ کو امریکی مالیاتی نظام کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ آپ امریکی پابندیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ تینوں ممالک کے بینکوں کے ذریعے رقم کی منتقلی کا ایک پیچیدہ اور وقت طلب سلسلہ ترتیب دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے کے تحت جس کا اعلان گزشتہ جمعے کو کیا گیا تھا جنوبی کوریا چھ ارب ڈالر کے منجمد فنڈزایران کو منتقل کرے گا، تاکہ تہران صرف خوراک اور ادویات جیسی انسانی امداد کی اشیاء خرید سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں