بذریعہ فیس بک گردے کی خریداری، تونس اور ترکیہ کے درمیان خفیہ مافیا سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مہینوں کی تحقیقات کے بعد تونس کے شہریوں کو حیران کرنے والے گردے خریدنے کے معاملے سے آگاہی ہوئی ہے۔ عدلیہ نے انسانی اعضاء کی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے شبے میں 5 افراد کو قید اور 3 دیگر پر سفری پابندی کا اعلان کردیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک تونس اور ترکیہ کے درمیان 2018 سے فعال ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کو استعمال کرتے ہوئے پوسٹنگ کی نگرانی کی گئی۔ سوشل مڈییا پر تونس کے باشندوں سے کہا گیا کہ وہ ترکیہ میں اعضاء کو نکالنے کے آپریشن کے بعد گردے کی فروخت کے عوض لگ بھگ 7 ہزار ڈالر کی رقم حاصل کرنے کے لیے نیٹ ورک کے اراکین سے رابطہ کریں۔

کیسرین میں ابتدائی عدالتِ کے سرکاری ترجمان صلاح الدین الراشدی نے العربیہ کو پیر کے روز بتایا کہ تحقیقات سے گردے نکالنے کے کئی آپریشن سامنے آئے ہیں۔ تونس کے کئی شہریوں کے گردے نکالے گئے۔ یہ ایک انتہائی سنگین اور پیچیدہ کیس ہے۔

الراشدی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ جرائم پیشہ گروہ انٹرنیٹ پر سرگرم ہے اور اسے ترکیہ سے شامیوں اور اردنی باشندوں کے ساتھ ساتھ ترکوں کی شرکت سے چلایا جاتا ہے۔

اس مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہر عمرانیات محمد زرعی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو ایک بیان میں کہا کہ مشکل سماجی حالات اور غربت اور ضرورت کے معاملات سب سے اہم وجوہات ہیں جو لوگوں کو مالی فائدے کے عوض اپنا عضو فروخت کرنے پر اکساتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ نیٹ ورکس اور دیگر فریقین کی طرف سے ان "متاثرین" کو اپنے اعضاء کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے پر اکسایا گیا اور ان کا استحصال کیا گیا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اعضاء کی سمگلنگ کے رجحان پر توجہ دیں جو حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے۔ قابل ذکر ہے تونس کا قانون انسانی اعضاء کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری مالی اور جیل کی سزائیں مقرر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں