صائمہ محسن نے سی این این کے خلاف غیرمنصفانہ برطرفی پرمقدمہ دائر کرنے کا حق جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سی این این کی سابق پاکستانی نژاد صحافیہ صائمہ محسن نے امریکی نیوز نیٹ ورک کے خلاف برطانیہ میں ایمپلائمنٹ ٹریبونل میں مقدمہ دائر کرنے کا حق جیت لیا ہے۔انھوں نے یہ دعویٰ دائر کیا ہے کہ انھیں اسرائیل میں تعیناتی کے دوران میں زخمی ہونے کے بعد غیرمنصفانہ طور پر برطرف کردیا گیا تھا اوران کےساتھ امتیازی سلوک کیا گیا تھا۔

جج کلیموف نے گذشتہ ماہ ابتدائی سماعت کے بعد محسن کے حق میں فیصلہ سنایا،جس کا مطلب ہے کہ ان کا کیس لندن سنٹرل ایمپلائمنٹ ٹریبونل میں فل ٹریبونل میں سنا جا سکتا ہے۔سماعت کی تاریخ کا تعیّن ہونا ابھی باقی ہے۔

سی این این نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وارنر برادرز کے ملکیتی نیوزنیٹ ورک نے برطانیہ میں مقیم صائمہ محسن کے کیس کو علاقائی بنیادوں پر مسترد کرتے ہوئے دلیل دی کہ ان کے ملازمت کے معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ کے ٹریبونل کے پاس ان کے دعووں پر دائرہ اختیار نہیں ہے۔

صائمہ محسن اب اسکائی نیوز کے لیے فری لانس بنیادپر کام کرتی ہیں۔ وہ 2014 میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں سی این این کے لیے کام کرنے کے دوران میں زخمی ہو گئی تھیں۔وہ اسرائیل فلسطین تنازع کی کوریج کے لیے گئی تھیں۔

ان کے کیمرا مین نے ان کے پاؤں کو مسل دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ٹشوز کو نقصان پہنچا اور دائمی درد ہوا، جس کا مطلب ہے کہ وہ چلنے کے لیے چھڑی استعمال کرتی ہیں اور کل وقتی کام کرنے سے قاصر ہیں۔اس واقعہ کے نتیجے میں صائمہ محسن کی دماغی صحت بھی خراب ہوگئی اور وہ ڈپریشن کا شکار ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ سی این این نے 2017 میں ان کا معاہدہ اس وقت ختم کر دیا تھا جب انھوں نے بحالی کے دوران میں متبادل فرائض انجام دینے اور مدد کی درخواست کی تھی۔

ان کا مقدمہ اب یکم مارچ 2017 کے بعد برطرفی، معذوری کے امتیاز، استحصال، معقول ایڈجسٹمنٹ کرنے میں ناکامی اور دعووں کے سلسلے میں مساوی تن خواہ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ نسلی امتیاز کا ایک علاحدہ دعویٰ غورو فکر کے اس دور سے باہر ہے لہٰذا اب آگے نہیں بڑھے گا۔

صائمہ محسن نے کئی بار کسی قانونی کارروائی کے بغیر یہ معاملہ نمٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے ، لیکن سی این این نے اب تک ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیوز نیٹ ورک نے قانونی کارروائی جاری رکھ کر ان کے "درد اور تکلیف" میں اضافہ کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں نے مسلسل بحالی یا ثالثی اور مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ میں نے ایک غیر مرئی معذوری سے نمٹنے اور اپنی زندگی کی تعمیرِنو کے عمل میں اس جنگ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ ضروری تھا کہ میں اپنے حق کے لیے ایک مؤقف اختیار کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کیس صحافیوں کے تحفظ اور معذور افراد کے ساتھ سلوک کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔محسن کا عدالت میں کوئی وکیل نہیں تھا لیکن ان کی نمائندگی ڈوٹی اسٹریٹ چیمبرز کے بیرسٹر پارس گوراسیا اور جینیفر رابنسن نے کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں