طالبان ہر چیلنج کے مقابلے کے لیے پرعزم، کارکردگی پر اقوام متحدہ کی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

طالبان نے اپنے اقتدار میں آنے کی دوسری سالگرہ کے موقع پر آج منگل کو افغانستان کی آزادی کے لیے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

حکام نے ایک بیان میں کہا، "کابل کی بازیابی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کوئی بھی طاقت غیور افغان قوم اور اس ملک کی بقا کو کنٹرول نہیں کر سکتی"

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی بھی غاصب قوت کو افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ "

طالبان اگست 2021 میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں واپس آئے اور دو دہائیوں سے جاری شورش کا خاتمہ کیا۔

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں، اقوام متحدہ نے آج منگل کو کہا کہ افغانستان میں طالبان کے وعدوں اور ان کے طرز عمل کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "طالبان کو لڑکیوں کی تعلیم کو روکنے کے حوالے سے اپنے فیصلوں کو واپس لینا چاہیے۔"

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغان طالبان آج اقتدار میں واپسی اور کابل پر اپنے کنٹرول اور پورے ملک میں سلامتی کے قیام کی دوسری سالگرہ منا رہے ہیں۔

افغانستان میں 20 سال کی غیر فیصلہ کن جنگ کے بعد امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد، طالبان 15 اگست 2021 کو دارالحکومت میں داخل ہوئے، اور امریکی حمایت یافتہ صدر اشرف غنی فرار ہو گئے۔

تحریک کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج ایک بیان میں کہا کہ"اقتدار کی دوسری سالگرہ کے موقع پر، ہم افغانستان کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان سے اس عظیم فتح پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

حکام نے منگل کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا۔ دارالحکومت میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے اور فوجیوں نے تلاشی کا عمل تیز کر دیا۔

وزارت تعلیم سمیت متعدد وزارتوں نے جشن اور ریلیوں کا اہتمام کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ "اب، ملک کی قیادت عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے کام کر رہی ہے۔"

''افغانستان امن سے لطف اندوز ہو رہا ہے جو اس نے دہائیوں میں نہیں دیکھا،''

لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود شہریوں پر درجنوں حملے ہو رہے ہیں اور ان میں سے کچھ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

بہت سی خواتین کے لیے طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے ایک بیان میں کہا، "افغانستان میں طالبان کو اقتدار سنبھالے دو سال گزر چکے ہیں۔ دو سالوں نے افغان خواتین اور لڑکیوں کی زندگی، حقوق اور مستقبل کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔"

بین الاقوامی تشخص میں رکاوٹ

طالبان دور کے تعلیمی نظام میں 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو سکول سے باہر کر دیا گیا ہے اور بہت سی مغربی حکومتوں کے لیے یہ پابندی طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

طالبان نے زیادہ تر افغان خواتین ملازمین کو امدادی اداروں میں کام کرنے سے بھی روکا، بیوٹی سینٹرز بند کر دیے، خواتین کے پارکوں میں جانے پر پابندی لگا دی، اور انہیں مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے سے روک دیا۔

یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ جو دو دہائیوں تک مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کے دور اقتدار میں ترقی کی منازل طے کرتے رہے، رکاوٹوں اور دباؤ کا شکار ہیں۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کے ارکان کی گرفتاری نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

طالبان نے ان مقدمات پر تفصیل سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ان سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں جنہیں وہ مشکوک سمجھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ طالبان دور حکومت میں مثبت پیش رفت یہ کہ بدعنوانی میں کمی آئی ہے۔ 2001 میں طالبان کے خاتمے کے بعد کئی سالوں سے مغربی امداد کی رقم سے اس میں اضافہ تھا۔

ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے منشیات کی کاشت پر پابندی کے باعث ایک ایسے ملک میں پوست کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو برسوں سے دنیا میں افیون کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا۔

طالبان کو امید ہے کہ یہ پیشرفت عالمی سطح پر قبولیت حاصل کرنے، پابندیاں ہٹانے اور طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد 2021 سے نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں منجمد افغانستان کے سینٹرل بینک کے اثاثوں حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

ترقیاتی امداد میں کمی روزگار کے مواقع میں کمی اور مجموعی گھریلو پیداوار میں کمی کا باعث بنی ہے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ دو تہائی سے زیادہ آبادی کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں