لیبیا تنازع

لیبیا: طرابلس میں متحارب ملیشیاؤں میں جھڑپیں،55 افراد ہلاک، کم سے کم 150 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں دوروز میں 55 افراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ شہروں گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

طرابلس کے ایمرجنسی میڈیسن اور سپورٹ سنٹر کے ترجمان نے بدھ کے روز بتایا کہ پیر اور منگل کو دارالحکومت میں ہونے والی جھڑپوں میں 55 افراد ہلاک اور 146 زخمی ہوئے ہیں لیکن ترجمان نے مزید تفصیل نہیں بتائی کہ ان میں کتنے عام شہری ہیں۔

لیبیا کی ہلال احمر سوسائٹی نے تمام متحارب فریقوں سے پرامن ہونے اور کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی ٹیم کام کرسکے اور پھنسے ہوئے شہریوں کو مدد مہیا کی جاسکے۔اس نے کہا کہ ہمیں جھڑپوں کے علاقوں میں پھنسے خاندانوں کی جانب سے بہت سی کالیں اور پیغامات موصول ہوئے ہیں، جہاں وہ ہم سے باہر نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی اپیل کررہے ہیں۔

جھڑپوں کی وجہ سے شہری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ تشدد سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔لیبیا کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ اس سال طرابلس کو ہلا کر رکھ دینے والی سب سے شدید لڑائی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پیر کی شام 444 بریگیڈ اور اسپیشل ڈیٹرنس فورس کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 444 بریگیڈ کے سربراہ کو پیر کی صبح طرابلس کے ایک ہوائی اڈے پر دوسری فورسز نے مبیّنہ طور پر حراست میں لے لیا تھا۔

لیبیا کی وزارت صحت نے ایک بیان میں متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایمبولینسوں اور ہنگامی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اس نے قریبی اسپتالوں میں خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری کی تنظیم او پی ایس گروپ نے پیر کی رات بتایا کہ جھڑپوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں طیارے دارالحکومت سے روانہ ہوگئے اور ہوائی اڈے پراترنے والی پروازوں کا رُخ قریبی شہر مصراتہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

لیبیا میں قریبا ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں گذشتہ کئی ماہ امن رہا ہے لیکن اب ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔حالیہ برسوں میں طرابلس میں تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں، اگرچہ ان میں سے زیادہ تر چند گھنٹوں میں ختم ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی نے چیف آف اسٹاف اور سیکیورٹی سروسز سے جنگ بندی اور 444 ویں بریگیڈ کے کمانڈر کو فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔المنفی نے چیف آف اسٹاف اور سییورٹی سروسز کو ہدایت کی کہ وہ تشدد میں آگے نہ بڑھیں اور جنگ بندی کی ضرورت پر عمل کریں۔

وزیردفاع نے طرابلس میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔لیبیا کی صدارتی کونسل کے نائب سربراہ عبداللہ اللافی نے منگل کے روز ٹی وی کو بتایا کہ طرابلس میں تنازع کے دونوں فریقوں کی جانب سے کل سے جاری جھڑپوں کے خاتمے کے لیے ردعمل کے اشارے ملے ہیں۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این ایس ایم آئی ایل) نے دارالحکومت طرابلس میں ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے مشن نے ایک بیان میں طرابلس میں جاری جھڑپوں کے شہریوں پر پڑنے والے ’’شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے تحت شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی ذمے داری پرزور دیا ہے۔

مشن نے قومی انتخابات کی تیاریوں سمیت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگارسکیورٹی ماحول پیدا کرنے کی جاری کوششوں پر اس لڑائی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تشدد اختلافات کو حل کرنے کا قابل قبول ذریعہ نہیں۔ تمام فریقوں کو حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والی سلامتی کی کامیابیوں کو برقرار رکھنا چاہیے اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو حل کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں