یوکرین کے فوجی وسائل قریباً ختم ہوچکے ہیں: روسی وزیردفاع

مغرب کی جامع امداد مہیّا ہونے کے باوجود یوکرین کی مسلح افواج نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے فوجی وسائل قریباً ختم ہو چکے ہیں جبکہ یوکرین کی مسلح افواج اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو واگذار کرانے کے لیے سخت جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔

ماسکو میں منگل کے روز منعقدہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوئیگو نے کہا کہ ’’مغرب کی جانب سے جامع امداد مہیّا ہونے کے باوجود یوکرین کی مسلح افواج نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’جھڑپوں اور لڑائی کے ابتدائی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرین کے فوجی وسائل قریباً ختم ہو چکے ہیں۔مغربی ہتھیاروں کے بارے میں کچھ بھی انوکھا نہیں ہے اور یہ کہ وہ میدان جنگ میں روسی ہتھیاروں سےغیر محفوظ نہیں ہیں‘‘۔

یوکرین نے جون میں اپنے طویل عرصے سے متوقع جوابی حملے کا آغاز کیا تھا ، لیکن اس نے سخت لڑائی کا اعتراف کیا ہے جبکہ اس کی مسلح افواج سخت مضبوط روسی پوزیشنوں کو توڑنے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔

یوکرین نے اپنے مشرق میں واقع جنگ زدہ شہر بَخموت کے ارد گرد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ روس نے شمال مشرقی خطے خرکیف میں واقع قصبے کوپیانسک کے ارد گرد پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔

روس نے بین الاقوامی سلامتی کے بارے میں ماسکو میں منعقدہ کانفرنس میں 100 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی ہے لیکن مغربی ممالک کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں