اقوام متحدہ کی کوپ 28 کانفرنس اور یواے ای کا غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کا ایجنڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کے کوپ 28 سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے اور عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مشرقِ اوسط میں ہونے والی اس موسمیاتی کانفرنس کی متحدہ عرب امارات نومبر میں میزبانی کرے گا۔ خطے میں غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ، کچھ ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ خلیجی ملک ، اپنے وسیع وسائل ، تکنیکی ترقی اور اس مسئلے پر فعال وکالت کے ساتھ ، ممکنہ طور پر خطے میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی جنگ کی قیادت کرسکتا ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے دبئی سے تعلق رکھنے والے پائیداری اور آب و ہوا کے ماہر جو بتیخ نے العربیہ کو بتایا کہ "متحدہ عرب امارات کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے وسائل موجود ہیں اور وہ چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کوپ 28 کے بعد غذائی تحفظ اور اقدامات پر بحث کی قیادت کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی ایسا ملک نہیں جس کے پاس خوراک کی وافر مقدار ہو جو غذائی تحفظ پر بات چیت کی قیادت کرے، یہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک ہے جو روزانہ کی بنیاد پراس سے نمٹ رہا ہے جو اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے اور اس کی قیادت کرسکتا ہے۔مشرق اوسط میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی اسباب پانی کی قلت، غیر مستحکم معیشتیں اور خوراک کی درآمدات پر بھاری انحصار ہے۔

غذائی عدم تحفظ

مڈل ایسٹ کونسل آن گلوبل افیئرز کے مطابق’’یہ عوامل خطے کو غذائی عدم تحفظ کی اعلیٰ سطح کا شکار بناتے ہیں۔آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ شدید گرمی اور خشک سالی فصلوں کی مسلسل ناکامی کا سبب بنتی ہے۔اس خطے کا خوراک کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار بھارت کی جانب سے چاول کی برآمد پر حالیہ پابندی سے ثابت ہوتا ہے۔

بھارت کی جانب سے پابندی کے نفاذ کے آٹھ دن بعد جب شدید بارشوں سے مقامی فصلیں متاثر ہوئیں تو متحدہ عرب امارات نے مختلف اقسام کے چاول اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد اور دوبارہ برآمد پر عارضی پابندی کا اعلان کیا۔

متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں چاول کی قیمتوں میں عارضی طور پر اضافے کا امکان ہے، کچھ ماہرین نے 40 فی صد تک اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔مشرقِ اوسط میں اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے موسمیاتی امور کے ماہر عمرفاروق کا کہنا ہے کہ ’’آب وہوا کی نازک صورت حال کسانوں کے لیے خوراک پیدا کرنے کی ترغیب کو کم کر رہی ہے کیونکہ درآمدی خوراک سستی پڑتی ہے اور مقامی پیداوار کی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب متحدہ عرب امارات نے غذائی تحفظ سے متعلق اپنی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا تو ہم نے یہ کہا کہ ہمارے دروازے خطے کے دیگر ممالک کی مدد کے لیے کھلے ہیں۔توقعات اور چیلنجزجدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر زرعی سرمایہ کاری کے ساتھ ،امارات کے پاس غذائی عدم تحفظ کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے کے لیے اسلحہ موجود ہے۔ تاہم، اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تزویراتی پالیسی کے فیصلوں میں تیزی سے جدت طرازی کو نافذ کیا جائے، جو علاقائی غذائی تحفظ کے حصول کی کلید ہے۔

عمرفاروق نے العربیہ کو بتایا:’’اس کے لیے تزویراتی ہونے کی ضرورت ہوگی، خوراک کی پیداوار خوراک کے نظام کا صرف ایک حصہ ہے، آپ بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ خوراک پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کا انحصار پالیسی پر بھی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ نئی اختراعات ہو رہی ہیں لیکن بعض اوقات پالیسی کی کمی کی وجہ سے وہ بڑے پیمانے پرناکام ہو جاتی ہیں‘‘۔

موسمیاتی ماہر نے مزید کہا کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کو سستی اور مقامی آبادی کے لیے آسانی سے اپنانے کے قابل بنانا ہے۔بہت سے خلیجی ممالک میں زرعی صنعت کاری میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے، لیکن اس سے صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز نتائج برآمد ہوں گے جب کوششیں ’’غریبوں کے حق میں‘‘ ہوں اور ضرورت مندوں کو ہدف بنائیں۔غذائی عدم تحفظ کو کامیابی سے کم کرنے کے لیے خطے کے رہ نماؤں کو سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے جامع پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا جو کوپ 28 کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

اب دنیا کی نظریں متحدہ عرب امارات پر ہیں، کوپ 28 سربراہ اجلاس غذائی عدم تحفظ ،موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سفارشات کو بروئے کار لانے کا بہترین موقع ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں