ایران سے معاہدہ کیا ہے مگر تہران کےحوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوئی:بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے ساتھ امریکی "قیدیوں" کے معاہدے کے باوجود امریکا ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج میں اپنی زیادہ مسلح افواج کو متحرک کر رہا ہے، جس سے ایرانی حکومت سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کے بارے میں مزید ابہام پیدا ہوتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کل منگل کو کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا ایران کے بارے میں عمومی نقطہ نظر وہی ہے جو پہلے تھا۔ حراست میں لیے گئے امریکیوں کے بارے میں ایک سمجھوتے تک پہنچنے کے بعد اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈیٹرنس کی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے مگر ساتھ ہی وہ دباؤ اور سفارت کاری کی بھی کوشش کررہے ہیں۔

بلینکن نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ انہوں نے پیر کو کچھ امریکی زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے بات کی جنہیں چند روز قبل ایران میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

بلینکن نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکا کا ایرانی فنڈز پر بہت زیادہ کنٹرول ہو گا جو معاہدے کے فریم ورک کے اندر جاری ہو سکتے ہیں۔

ایک پیچیدہ معاہدے کے تحت جس پر عمل درآمد میں ہفتے لگ سکتے ہیں ایران جنوبی کوریا میں منجمد ایرانی فنڈز کے 6 ارب ڈالر کے بدلے میں زیر حراست پانچ امریکی شہریوں کو رہا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن بہت سے ایرانیوں کو بھی رہا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں