دوسری عالمی جنگ: سوا چار لاکھ جرمن قیدی کیسے امریکا منتقل کیے گئے اور کیا ہوا؟

دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی کیمپوں کے اندر موجود جرمن جنگی قیدیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے امریکیوں سے مدد مانگی تھی۔امریکا نے اپنی اتحادی کی مدد کرتے ہوئے چار لاکھ پچیس ہزار جرمن قیدیوں کو امریکا میں 700 حراستی کیمپوں میں رکھا جہاں ان سے بیگار لی جاتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

7 دسمبر 1941ء کو بحر الکاہل کے پار پرل ہاربر اڈے پر جاپانی بحریہ کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد امریکا دوسری جنگ عظیم میں داخل ہو گیا تھا۔

پرل ہاربر حملے کے تقریباً 4 دن بعد ایڈولف ہٹلرنے اسی سال 11 دسمبر کو امریکا کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ اس وقت ہٹلر کے فیصلے نے جرمن فوجی قیادت میں غصےاور تشویش کی لہر کو جنم دیا تھا جس نے سوویت اور برطانوی محاذوں کی طرح تیسرا محاذ کھولنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

700 حراستی کیمپ

امریکیوں کے دوسری جنگ عظیم میں داخل ہونے کے بعد لندن نے واشنگٹن کو خط لکھا جس میں جرمن جنگی قیدیوں کے معاملے میں مدد کی درخواست کی۔ اس وقت برطانیہ نے مزید جرمن قیدیوں کو وصول کرنے میں ناکامی کی شکایت کی۔ اس کی بنیاد پر برطانویوں نے امریکیوں کو تقریباً 175,000 جرمن قیدیوں کو وصول کرنے اور جنگ کے خاتمے تک حراستی مراکز میں رکھنے کی پیشکش کی۔

امریکا قیدیوں کی اس بڑی تعداد کو وصول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، کیونکہ امریکی انتظامیہ نے زور کرکہا تھا کہ اس کے فوجیوں کے پاس جنگی قیدیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری تجربے کی کمی ہے۔ نیز امریکیوں کو خدشہ تھا کہ وہ جنگی حالات کی وجہ سے عالمی تجارت میں خلل کی وجہ سے جرمنوں کی اس بڑی تعداد کے لیے ضروری مقدار میں خوراک اور لباس فراہم نہیں کر سکیں گے۔

ایک امریکی جیل میں کئی جرمن قیدیوں کی تصویر

میدان جنگ میں جرمن سپاہیوں نے برطانویوں اور امریکیوں کے ہاتھوں اسیر ہونے کو ترجیح دی کیونکہ اس عرصے کے دوران سوویت ریڈ آرمی کی طرف سے پکڑے جانے والے ہر شخص کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں بہت زیادہ معلومات پھیلائی گئی تھیں۔ قیدیوں کی منتقلی کی برطانوی خواہش کو پورا کرنے کے لیے امریکیوں نے لبرٹی جہازوں کو استعمال کیا جو بنیادی طور پر سامان کی نقل و حمل کے لیے بنائے گئے جہاز تھے۔

یورپی منظر نامے پر شدید لڑائیوں اور جرمنوں کی پسپائی کے ساتھ لبرٹی کے بحری جہاز ہر ماہ تقریباً 30,000 جرمن قیدیوں کو نیویارک اور ورجینیا کی طرف لے جاتے تھے۔ وہاں امریکی حکام نے قیدیوں کو مختلف امریکی ریاستوں میں قائم 700 کے قریب حراستی کیمپوں میں تقسیم کرنے کا انتظام کیا تھا۔

سوا چار لاکھ جنگی قیدی

امریکی رپورٹس کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا کو تقریباً چار لاکھ پچیس ہزارجرمن جنگی قیدی ملے جنہیں چھیالیس ریاستوں کے 700 حراستی کیمپوں میں تقسیم کیا گیا۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر امریکیوں نے ان حراستی مراکز کو فیکٹریوں اور آبادی کے مراکز سے دور علاقوں میں قائم کرنے کو ترجیح دی تھی۔

بیرکوں میں فوجی تربیت کے مقامات کی طرح ان جیلوں کو بھی خاردار تاروں سے بند کردیا گیا۔ اس کے ساتھ جرمن جنگی قیدیوں کو ان کی صفوں اور رجمنٹ کے مطابق الگ کیا گیا جس کے لیے انہوں نے خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ جرمن جنگی قیدیوں نے ان امریکیوں کو معاوضہ دینے کی کوشش کی جنہوں نے فوج کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور انہیں محاذوں پر بھیجا گیا۔ اس کے مطابق جرمن قیدی پیکنگ، کھیتی باڑی اور اناج کی چکی چلانے کا کام کرتے۔

اسٹالن گراڈ کی جنگ کے بعد جرمن جنگی قیدی

بدلے میں جرمن قیدیوں کو یومیہ اجرت ملتی تھی۔اس کی سب سے کم قیمت تقریباً 80 سینٹ بتائی گئی تھی۔ دوسری جانب حراست میں لیے گئے افراد کو کھانے کے کمرے، تاش کھیلنے، پڑھنے، لکھنے اور سگریٹ نوشی کی کی اجازت تھی۔ کافی خوراک کے علاوہ جرمن قیدیوں نے بحالی کی کلاسیں حاصل کیں، جہاں انہیں مشرقی یورپ کے جرمن زیر قبضہ علاقوں میں ’ایس ایس‘ فورسز کے ذریعے کیے گئے جرائم کی تصاویر دکھائی جاتیں۔

جرمن قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک کے بارے میں رپورٹس کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کو روزانہ کی بنیاد پر امریکی شہریوں کی طرف سے بھیجے گئے ناراضگی کے خطوط کی ایک بڑی تعداد موصول ہوتی تھی، جس میں حراستی کیمپوں میں قیدیوں سے اچھا برتاؤ کرنے پر ناراضی کا اظہارکیا جاتا۔ دوسری جانب امریکی حکام نے جنگی قیدیوں سے لی گئی بیگار کے نتیجے میں 80 ملین ڈالر کی بچت کا بھی اعتراف کیا تھا۔

جنگ کے خاتمے کے باوجود امریکی انتظامیہ نے جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 1946ء کی سرحدوں کے اندر جرمن جنگی قیدیوں کا استحصال جاری رکھا۔ رفتہ رفتہ امریکا نے نازی حکومت کے خاتمے کے بعد ان قیدیوں کو ان کے وطن واپس بھیجنا شروع کر دیا۔ جب کہ رہائی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں جرمن قیدیوں نے امریکا ہی میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں