بین الاقوامی ریڈ کراس کا افغانستان کے 25 اسپتالوں کی فنڈنگ بند کرنے کاعندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) مالی مشکلات کے پیش نظراگست کے آخر تک افغانستان میں 25 اسپتالوں کی مالی امداد ختم کر سکتی ہے۔

یہ بات ریڈکراس کمیٹی کے ترجمان ڈیوگو الکانتارا نے ایک بیان میں بتائی ہے۔انھوں نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایاکہ افغانستان میں ہم اسپتال کے شعبے میں متبادل پائیدار اسپورٹ میکانزم تلاش کرنے کے لیے حکومتی وزارتوں، عطیہ دہندگان اور تنظیموں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم توقع ہے کہ اگست کے آخر میں اسپتال پروگرام کو مرحلہ وار ختم کردیا جائے گا۔

الکانتارا نے کہا:’’آئی سی آر سی کے پاس طویل مدت میں صحت عامہ کے مکمل طور پر کام کرنے والے شعبے کو برقرار رکھنے کا مینڈیٹ یا وسائل نہیں ہیں‘‘۔

اپریل میں آئی سی آر سی نے کہا تھا کہ اس کے گورننگ بورڈ نے 2023 اور 2024 کے اوائل میں لاگت میں 43 کروڑ سوئس فرانک (475.30 ملین ڈالر) کی کمی کی منظوری دی ہے اور کچھ مقامات پر آپریشنز کو واپس لینے کی منظوری دی ہے کیونکہ انسانی امداد کے بجٹ میں کمی متوقع ہے۔

ترجمان نے طالبان انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی آر سی کو درپیش مالی مشکلات میں تیزی آئی ہے، آئی ای اے (امارت اسلامیہ افغانستان) کے حکام کے ساتھ شفافیت، صحت کی خدمات کی مکمل ذمہ داریوں کی وزارت صحت عامہ کو متوقع واپسی کی توقع ہے۔

ریڈکراس کے پروگرام کا اختتام ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے دو سال بعد افغانستان کی انسانی امداد میں کٹوتی کی جارہی ہے اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی بین الاقوامی امداد کی دیگر شکلیں روک دی گئی ہیں۔

جنیوا میں قائم یہ تنظیم افغانستان میں صحت کے دیگر پروگراموں کو جاری رکھے گی جن میں معذور افراد کی بحالی میں مدد بھی شامل ہے۔طالبان کے زیر انتظام افغان وزارت صحت کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ان آپریشنز کے لیے کتنی رقم درکار ہے۔ان کے تحت لاکھوں لوگوں کی خدمت کرنے والے افغانستان کے کئی بڑے اسپتالوں میں تن خواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے فنڈزمہیا کیے جاتے ہیں۔ نیزکیا طالبان حکام اس رقم کو مالی سال سے پورا کر سکتے ہیں۔

افغان وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں سال کے بجٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔تاہم اسے سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔

آئی سی آر سی اسپتال پروگرام میں بنیادی طور پر 33 اسپتالوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ان میں سے آٹھ کو پہلے ہی مرحلہ وار ختم کردیا گیا ہے۔اس میں 10ہزار سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کی تن خواہوں اور کچھ طبی سامان کی ادائیگی کی گئی ہے۔اسپتالوں نے ہزاروں بستر مہیا کیے اور یہ اسپتال ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد پر مشتمل علاقوں میں طبی خدمات مہیا کررہے تھے۔

افغانستان کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جہاں 2023 کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے منصوبے پر صرف 25 فیصد امداد دی گئی ہے جبکہ درخواست کردہ بجٹ کو 4.6 ارب ڈالر سے کم کرکے 3.2 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔

سفارت کاروں اور امدادی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیوں کے خدشات کے ساتھ ساتھ معاصر عالمی انسانی بحرانوں کی وجہ سے عطیہ دہندگان مالی امداد سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ طالبان نے زیادہ تر افغان خواتین امدادی عملہ کو کام نہ کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ انھیں صحت اور تعلیم میں استثنا دیا گیا ہے۔امدادی اداروں کے مطابق افغانستان کی قریباً تین چوتھائی آبادی کو اس وقت انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں