ترکیہ میں شامی پناہ گزینوں پر عرصہ حیات تنگ، دکانوں میں لوٹ مار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں ایک بار پھر ترک شہریوں اور شامی مہاجرین کے درمیان ’لڑائیاں‘ شروع ہو گئیں ہیں اور ان لڑائیوں کے خوفناک مناظر سوشل میڈیا پر پھیل رہے ہیں۔

گذشتہ گھنٹوں کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنوب مشرقی ترکیہ کے شہر سانلیورفا میں مشتعل ترکوں کے شامیوں کی دکانوں پر دھاوا بولنے کے پرتشدد مناظر سامنے آئے ہیں۔

اگرچہ غصے کی اس لہر کے پیچھے اصل وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں، لیکن ترک سماجی کارکنوں نے بتایا کہ ترکیہ میں شامی مہاجرین کی دکانوں پر حملوں کے واقعات ایک افواہ کے بعد شروع ہوئے جب کہا گیا کہ پناہ گزینوں نے ایک کم عمر ترک لڑکے کےساتھ بد تمیزی کی تھی۔

حال ہی میں ترکیہ کے بعض علاقوں میں شامیوں کے خلاف حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مشکل معاشی حالا سے دوچار ترکیہ میں حال ہی میں بڑھنے والے کچھ سیاسی مباحثوں میں شامی باشندوں سمیت عام طور پر پناہ گزینوں کے بارے میں نسل پرستانہ رویہ اپنایا گیا ہے۔

ترکیہ میں تقریباً 40 لاکھ شامی پناہ گزین مقیم ہیں، جن میں سے اکثر "کملک" نامی عارضی تحفظ کارڈ رکھتے ہیں۔ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا تناسب شام کی سرحد کے قریب استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں کے علاوہ غازی عنتاب ہاتائے، سانلیورفا، کلیس اور اضنا میں مرکوز ہے۔

دریں اثنا ترک حکومت شامی پناہ گزینوں کو شام کی حلب گورنری میں واپس بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں