روس اور یوکرین

روس کی ممکنہ شکست کی ’آخری امید‘ ’ایف 16‘ طیارے یوکرین کو نہ مل سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے خلاف جنگ کے پلڑے کا رُخ موڑنے کے لیے کیئف نے اس سے بہت زیادہ امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یوکرین کو ایک دھچکا لگے گا۔

یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری احنات نے بدھ کو دیر گئے مقامی ٹیلی ویژن کوبتایا کہ ملک آنے والے موسم خزاں یا موسم سرما میں امریکی ساختہ F-16 لڑاکا طیارے استعمال نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ پہلے ہی واضح ہے کہ ہم آنے والے موسم خزاں اور موسم سرما میں F-16 لڑاکا طیاروں کے ساتھ یوکرین کا دفاع نہیں کر سکیں گے"۔

ایف 16
ایف 16

روسیوں کو شکست!

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب کیئف نے اپنے مغربی اتحادیوں سے گذشتہ برس فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے آخری مہینوں کے دوران اسے F-16 لڑاکا طیاروں کی فراہمی کی درخواست دی تھی۔

درحقیقت یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا خیال تھا کہ اس ہتھیار کا استعمال روسیوں کو شکست دے گا۔

گذشتہ مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرینی پائلٹوں کے لیے F-16 لڑاکا طیاروں کے تربیتی پروگراموں کی منظوری دی تھی، تاہم انھوں نے ابھی تک طیاروں کی فراہمی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

جب کہ ان کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ ماہ تصدیق کی تھی کہ یوکرین کی افواج کو یہ جنگی طیارے چند مہینوں کے اندر اندر مل جائیں گے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کہ آیا یہ طیارےکب ملیں گے۔

تاہم مغرب جس نے ہمیشہ روس کو شکست دینے کے لیے ہتھیاروں کے ساتھ کیئف کی حمایت کی ہے۔امریکا کی قیادت میں نیٹو اور ماسکو کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کو بھڑکانے کے لیے اپنی رضا مندی پر بار بار زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں